Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
191 - 662
 رہنااور بُرے کاموں سے قولی اور فعلی طور پر بچنا۔ (1) 
مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں :  ’’ مصیبتوں سے مراد عبادات کی اطاعات کی مشقتیں ہیں ،  لہٰذا اس میں خود کشی ومال برباد کرنا داخل نہیں ۔ ‘‘  (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
”عبادات“کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)	نیکیاں کرنا اور نیکی کے راستے پر چلنا انتہائی دشوار  لیکن اس کی منزل روشن ہے اور وہ جنت ہے، جبکہ گناہوں کا راستہ نہایت آسان لیکن اس کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے اور وہ جہنم ہے۔
(2)	خواہشاتِ نفس کی پیروی کا لطف فقط چند گھڑیوں کا ہے مگر ان کی وجہ سے ملنے والا عذاب بہت سخت اور طویل عرصے کاہے۔جبکہ شریعت کی اِتباع میں پہنچنے والی تکلیف عارضی ہے لیکن اس کی جزا میں ملنے والی راحت دائمی ہے۔
(3)	عبادت کی مشقت اٹھانا اگرچہ نفس پر گِراں ہے لیکن انہیں ترک کر کے ملنے والا عذاب اس مشقت سے کئی گنا بڑھ کر ہے۔
(4)	خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا تقوے سے محروم ہوجاتا ہے اور تقویٰ ہی ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتا ہے۔
(5)	مباحات کی زیادتی سے بھی گریز کرنا چاہیےکہ اس سے دل سخت ہونے، حرام کاموں میں پڑنے اور



________________________________
1 -   فتح الباری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات، ۱۲ ‏ /  ۲۷۳، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
2 -   مرآۃ المناجیح، ۷‏ / ۵۔