چھوٹنے کا باعث ہے جن کو بجالانے کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ یہاں شہوات سے مراد حرام خواہشیں ہیں جیسے شراب، زنا، سرور ( گانے باجے) حرام کھیل تماشے۔ اس میں جائز شہوات داخل نہیں ۔ ‘‘ (2)
جنت کو ڈھانپنے والی مصیبتیں :
عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں جنت کو ڈھانپنے والی جن مصیبتوں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ اُمور ہیں جن کا مکلف بندے کو حکم دیا گیا ہے۔مثلاً نفس کا خوب کوشش کر کے عبادت کرنا، اس عبادت کی مشقت پر صبر کرنا، اس کوشش پر محافظت کرنا، غصہ پی جانا، برائی کرنے والے کے ساتھ عفو و درگزر کرنا، مصیبت پر صبر کرنا اور اس مصیبت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنااور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچنا۔ ‘‘ (3)
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ جنت جن مصیبتوں میں ڈھکی ہوئی ہے ان میں عبادات میں کوشش، نیکیوں پر ہمیشگی، تکلیفوں پر صبر، غصے پر ضبط، عفو و درگزر، بُردباری، صدقہ کرنا، برائی کرنے والےکے ساتھ بھلائی کرنا اور خواہشات سے رُکے رہنا وغیرہ افعال شامل ہیں ۔ ‘‘ (4)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث میں مَکارہ یعنی جنت کو ڈھاکنے والی مصیبتوں سے مراد وہ اُمور ہیں کہ جن کا مکلف بندے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَوامِر یعنی جن کاموں کو اس نے کرنے کا حکم دیا ہے ان پر عمل کرے اور نواہی یعنی جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے اجتناب کرے۔مثلاً اچھی طرح سے عبادت کرنا اور اس پر قائم
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات، ۱۲ / ۲۷۳، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۷ / ۵۔
3 - ارشاد الساری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات،۱۳ / ۵۶۶، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
4 - شرح مسلم للنووی،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ، ،۹ / ۱۶۵،الجزء السابع عشر ۔