ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ۔ ‘‘ الغرض صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے مختلف خیالات کا اِظہار کیا ۔ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باہر تشریف لائے اور فرمایا: ’’ کس چیزکے بارے میں بحث کررہے ہو؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے زیر بحث مسئلہ بتایا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں ، نہ کراتے ہیں اور نہ ہی بد فالی لیتے ہیں اور اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کرتے ہیں ۔ ‘‘ (یہ سن کر) عُکَّاشہ بن مِحْصَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دعا کیجئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اُن میں شامل فرمادے۔ ‘‘ فرمایا : ’’ تو اُن میں سے ہے۔ ‘‘ پھر ایک اور شخص کھڑا ہواورعرض کی: ’’ دعا کیجیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے بھی اُن لوگوں میں شامل فرمادے ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ اِس میں عُکَّاشَہ تم پرسبقت لے گئے۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیثِ مذکور میں تین باتوں کا بیان ہے : (1) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا۔ (2) سترہزار70000لوگوں کاجنت میں بلاحساب وعذاب داخلہ (3) بلاحساب وعذاب جنت میں جانے والوں کی خصوصیات۔اِن تینوں کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے۔
(1) رسول اللہ کے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان الفاظِ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں ۔یہ پیشی یا تو میثاق کے دن ہوئی یا کسی خوابی معراج میں یاجسمانی معراج میں ، تیسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے معراج میں جہاں اور چیزیں ملاحظہ فرمائیں وہاں ہی سارے نبی مع اُن کی اپنی اُمَّتوں کے حال آنکھوں سے دیکھے۔ معلوم ہوا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگا ہ سے کوئی نبی اور ہر نبی کا کوئی اُمَّتی غائب نہیں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا ہے۔ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ ا ن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔یعنی بعض نبی دنیا میں وہ بھی گزرے جن کی بات ایک شخص نے بھی نہ مانی وہ ہمارے سامنے اکیلے ہی پیش ہوئے، بعض نبی وہ جن کی دعوت صرف ایک نے یا دو نے یا جماعت نے