الْقَوِیکے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شہوات کی پیروی کرنے والا تقوے سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر شہوات بندے کی سماعت و بصارت چھین لیتی ہیں کہ وہ ان شہوات کو تو دیکھتا ہے لیکن دل پر جہالت و غفلت غالب ہونے کی وجہ سے ان شہوات کے پیچھے بھڑکتی ہوئی جہنم کو نہیں دیکھ پاتا۔ اِس شخص کی مثال اس پرندے جیسی ہے کہ جو چھپے ہوئے جال میں موجود دانے کو تو دیکھتا ہے مگر دل پر اس دانے کی خواہش غالب ہونے کی وجہ سے اس جال کو نہیں دیکھ پاتا جو شکاری نے اسے پھانسے کے لیے بچھایا ہوتا ہے پھر وہ پرندہ اس میں پھنس جاتا ہے۔ ‘‘ (1)
شہوات سے کیا مراد ہے؟
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ وہ شہوات جن سے دوزخ کو ڈھانپا گیا ہے وہ حرام شہوات ہیں جیسے شراب پینا، زناکرنا، نامحرم کو دیکھنا، غیبت کرنا اور گانے باجے کے آلات استعمال کرنا اور اُن جیسے دیگر بُرے اَفعال۔وہ شہوات جو حرام نہیں بلکہ مباح ہیں وہ اس میں داخل نہیں لیکن اُن کا کثرت سے کرنا بھی مکروہ ہے کیونکہ کثرت سے مباحات میں منہمک ہونے سے حرام کام میں مشغول ہونے یا دل کے سخت ہونے کا خوف ہےیا پھر بندے کا نیکیوں سے ہٹ کر دُنیوی لذتوں میں مشغول ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ ‘‘ (2)
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ شہوات سے مراد حرام اُمور ہیں ورنہ جو مباح خواہشات ہیں وہ دوزخ میں داخلے اور جنت میں نہ جانے کا سبب نہیں البتہ مباحات کی کثرت مقامِ قرب و وِلایت سے دُور کردیتی ہے۔ ‘‘ (3)
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ شہوات سے مراد اُن اُمورِ دنیاسے لطف اندوز ہونا ہےجن کی شریعت نے ممانعت فرمائی ہے کیونکہ شہوات کو پورا کرنااُن نیک اَعمال کے
________________________________
1 - ارشاد الساری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات،۱۳ / ۵۶۶، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
2 - شرح مسلم للنووی،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ،۹ / ۱۶۵،الجزء السابع عشر ۔
3 - اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، الفصل الاول،۴ / ۲۰۲۔