جنت ودوزخ فقط دو2 ٹھکانے:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عبرت نشان شہوت کی مذمت، اس سے بچنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری پر اُبھارنے کے بارےمیں انتہائی جامع مانع اور بلیغ کلام ہے اگرچہ نفوس پر یہ بہت بھاری اور شاق ہے ۔لیکن قیامت کے دن جنت اور دوزخ کے سوا کوئی تیسرا ٹھکانہ نہ ہوگا اور ان میں سے کسی ایک میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا تو پھر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اُن اعمال کو بجا لائیں جو جنت میں لے جانے والے اور جہنم سے بچانے والے ہوں ۔ اگر چہ یہ کام دشوار ہیں لیکن آگ کا عذاب اس سے زیادہ سخت اور اسے برداشت کرنا اس سے زیادہ مشکل ہے۔ ‘‘ (1)
آتشِ دوزخ کا پردہ :
حضرت سَیِّدُنَا شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ آتشِ دوزخ کا پردہ شہوات ہیں ، جب بندہ اُن کا ارتکاب کرتا ہے تو دوزخ تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جنت سختیوں میں پوشیدہ ہے کیونکہ جب انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم پر عمل کرتا ہے، شہوات و لذات سے اپنے آپ کو روکتا اور نفس کو اُن سختیوں میں ڈالتا ہے تو اس پردے کو چاک کرکے اس جنت تک پہنچ جاتا ہے جو اُن تکالیف کے پیچھے ہے۔اس حدیث پاک سے ”اَلْعِلْمُ حِجِابُ اللہ یعنی علم اللہ عَزَّ وَجَلَّکا پردہ ہے۔ ‘‘ کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ علم، خدا اور بندے کے درمیان پردہ ہے جب انسان علم کے پردے تک جا پہنچتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی معرفت حاصل کر لیتا ہے۔ ‘‘ (2)
شہوات کی پیروی کا وبال:
عَلَّامَہ اَبُو الْعَبَّاس شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد اَلْقُسْطُلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے علامہ ابن عربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
________________________________
1 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات، ۱۰ / ۱۹۸۔
2 - اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، الفصل الاول،۴ / ۲۰۲۔