کی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! تیری عزت کی قسم! جو بھی اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے تکلیفوں سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھنے کے لیے بھیجا۔ اس بار وہ دیکھ کر واپس آئے تو عرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہ ہو سکے گا۔ پھر اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں دوزخ دیکھنے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ وہ اسے بھی دیکھنے گئے اور واپس آکر عرض کی:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تیری عزت کی قسم !اس کا حال سننے کے بعد کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے شہوات سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو بھیجا۔ اس مرتبہ وہ واپس آئے توعرض کی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیری عزت کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے کوئی نجات نہ پا سکے گا۔ (1)
جنت ودوزخ کے پردے:
مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں : پہلے جزمیں اس بات کا بیان ہے کہ جہنم شہوات سے گِھری ہوئی ہے۔ اور دوسرے جز میں اس بات کا بیان ہے کہ جنت مصیبتوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔شارحینِ حدیث نے جنت و دوزخ کے ڈھکے ہونے کی نہایت بہترین شرح فرمائی ہے۔چنانچہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ کلام نہایت فصیح و بلیغ ہے اور اتنی خوبصورت مثال ہے کہ جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر شے کو جمع فرمایا ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کلام کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی شخص سختی اور تکلیف برداشت کیے بغیر جنت حاصل نہیں کرسکتااور کوئی بھی شخص گناہوں کا مرتکب ہوئے بغیرجہنم کا حقدار نہیں ہوسکتا۔ گویا کہ یہ ایسا ہے کہ جنت اور دوزخ پر دو پردے پڑے ہوئے ہیں تو جو اِن پردوں کو چاک کرے گا و ہی پردے کے پیچھے چھپی ہوئی چیز تک پہنچے گا تو پس جنت پر پڑے ہوئے پردے کو چاک کرنے کا طریقہ سختیوں پر صبرکرنا ہے اورجہنم کے پردے کو چاک کرنے کا طریقہ شہوات کی پیروی کرنا ہے۔ ‘‘ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الرقاق ، باب حجبت النار بالشھوات،۱۲ / ۲۷۳، تحت الحدیث: ۶۴۸۷۔
2 - شرح مسلم للنووی،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا و اھلھا ، ،۹ / ۱۶۵،الجزء السابع عشر ۔