جنت و دوزخ کا راستہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دوزخ کو شہوات سے ڈھانپ دیا ہے یعنی جہنم کی طرف جانے والا راستہ بظاہر بڑا خوشنما دکھائی دیتا ہے ، اس راہ پر چلنا بڑا آسان اور اس سے بچنا نہایت دشوار ہے، اس راہ میں قدم قدم پر نفس کے لیے راحتیں ہیں ، اسی وجہ سے نفس بھی اس راہ پر چلنے میں رغبت رکھتا ہے، لیکن بظاہر خوشنما نظر آنے والا یہ راستہ انسان کو جہنم کی طرف دھکیل دیتا ہے۔جس طرح دوزخ شہوات سے گِھری ہوئی ہے اسی طرح بہشت کو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سختیوں اور تکالیف سے ڈھانپا ہے، جنت خود بہت حسین لیکن اس کی طرف جانے والی راہ بہت دشوار و کٹھن ہے۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ دوزخ خود خطرناک ہے مگر اس کے راستے میں بہت سے بناوٹی پھول و باغات ہیں ، دنیا کے گناہ، بدکاریاں جو بظاہر بڑی خوشنما ہیں یہ دوزخ کا راستہ ہی تو ہیں ۔جنت بڑا بار دار باغ ہے مگر اس کا راستہ خار دار ہے جسے طے کرنا نفس پر گراں ہے۔ نماز، روزہ حج، زکوٰۃ، جہاد، شہادت جنت کا راستہ ہی تو ہیں ۔ طاعات پر ہمیشگی شہوت سے علیحدگی واقعی مشقت کی چیزیں ہیں ۔ ‘‘ (1)
جبریل امین کا جنت و دوزخ کا مشاہدہ:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفو عاً ایک حدیث مروی ہے جس میں اسی مفہو م کی وضاحت موجودہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت اور دوزخ بنائی تو جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو جنت کی طرف بھیجا اورفرمایا :اس میں موجود چیزوں کو دیکھو ۔ وہ گئے اور واپس آکر عرض
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح،۷ / ۵۔