Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
185 - 662
(1)	 اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
(2)	اپنے ہر ہر معاملے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تقدیر پر یقین رکھنا چاہیے۔
(3)	اگر،  مگر اور کاش وغیرہ کے الفاظ استعمال کرنے سے تقدیر کے انکار کا وہم پیدا ہوتا ہے لہذا یسے الفاظ استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔
(4)	دینی کاموں کے چھوٹ جانے پر لفظِ” اگر“ کہنا  اور افسوس و ندامت  کرنا اچھی بات ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قوی مؤمن بنائے اور ہردم اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے نیز ہمیں تقدیر اِلٰہی پر اعتراض کرنے سے محفوظ و مامون فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :101	    
جَہَنَّم اور جَنَّت ڈھانپ دی گئی ہیں 
 عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ،  وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ  بِالْمَکَارِہِ.  (1)  وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ:”حُفَّتْ“ بَدَلَ ”حُجِبَتْ“ وَہُوَ بِمَعْنَاہُ،  اَیْ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا ھٰذَا الْحِجَابِ،  فَاِذَافَعَلَہُ دَخَلَہَا. (2) 
ترجمہ  : حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ دوزخ کو شہوتوں سے اور جنت کو تکالیف ومشقتوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ ‘‘ 
مسلم کی ایک روایت میں ”حُجِبَتْ“کی جگہ”حُفَّتْ“ کا لفظ آیا ہے اور دونوں کا ایک ہی معنی ہے یعنی  ’’ بندے اور جنت و دوزخ کے درمیان یہی  (مصیبتیں اور شہوات)  حائل ہیں پس جب وہ اِن اَعمال کو کرے گا تو ان میں داخل ہوجائےگا۔ ‘‘ 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الرقاق، باب حجبت النار بالشھوات ،۴‏ / ۲۴۳، حدیث: ۶۴۸۷۔
2 -   مسلم،کتاب الجنۃ  وصفۃ نعیمھا و اھلھا،ص۱۵۱۶، حدیث: ۲۸۲۲۔