مالک اشجعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ’’ جس پر تقدیر غالب آجائے اسے چاہیے کہ وہ کہے: ”حَسْبِیَ اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلیعنی مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ”فاروقِ اعظم“کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) ہرحال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ کرنا، اِطاعت خداوندی میں مشقت اٹھانا، لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرنا اور ہر حال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پرراضی رہنا قوی مؤمن کی صفات ہیں لہٰذا ان ہی صفات کو اختیار کرنا چاہیے۔
(2) بھلائیوں میں سے سب سے افضل بھلائی ایمان ہے اور ہرمسلمان صاحبِ ایمان ہوتا ہے لہٰذا مسلمان چاہے قوی ہو یا ضعیف وہ بھلائی ہی میں ہے۔البتہ عند اللہ دونوں کے مراتب جدا ہیں ۔
(3) حرص فی نفسہٖ بُری شے نہیں اس کا اچھا یا بُرا ہونا اس کے استعمال پر ہے، اگر حرص نیکیوں پر ہو تو یہ قابلِ تعریف ہے اور اگر دنیا وی معاملات میں (بُری نیت کے ساتھ ) ہو تو یہ قابل مذمت ہے لہذا دُنیوی غَرض سے بچتے ہوئے اُخروی یعنی نیکیوں کا حریص بنناچاہیے۔
(4) نیک اَعمال کی توفیق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی دیتا ہے جب تک اس کی مدد شامل نہ ہو اَعمالِ صالحہ یعنی نیک اَعمال بجالانا بھی ممکن نہیں ، لہذا ہردم توفیقِ الٰہی طلب کرنی چاہیے۔
(5) اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ہمارے مُقَدَّر میں جو آزمائش لکھی ہے اس پر صبر کرنا چاہیے اورناشکری کے الفاظ اپنی زبان پر لا کر اجر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
(6) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت پر ہر حال میں راضی رہنا چاہیے اور چاہے کیسی ہی آزمائش آئے تقدیر پر
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸ملخصا۔