تحریمی نہیں ۔بہر حال جو شخص کسی عبادت کے فوت ہوجانے یا کوئی نیک عمل خود پر مُتَعَذَّر (بہت مشکل) ہونے کی بنا پر افسوس کرتے ہوئے ”اگر“ کا استعمال کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور احادیث میں اس طرح ”اگر“ کا استعمال کثرت سے موجود ہے ۔ ‘‘ (1)
لفظ ”اگر“ کا استعمال کب ممنوع ہے؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی علامہ شاطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سےنقل فرماتے ہیں کہ ’’ اگر ‘‘ اور ’’ کاش ‘‘ کے الفاظ دل میں تَرَدُّدْ پیدا کرتے ہیں ۔ مشکاۃ المصابیح کے بعض شارحین نے فرمایا کہ ’’ اگر ‘‘ کا لفظ یقین کے ساتھ بولا جائے تو یہ بندے کو تقدیر کے انکار یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پر راضی نہ رہنے کی طرف لے جاتا ہے کیونکہ جب تقدیر بندے کی مرضی کے خلاف ظاہر ہو (یعنی جیسا بندہ چاہتا تھا اس کے خلافِ واقع ہوجائے) تو اس وقت بندہ یہ کہتا ہے کہ ’’ اگر میں ایساکرتا تو اس طرح نہ ہوتا ۔ ‘‘ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علمِ اَزَلی میں یہ مُقَدَّر ہوچکا تھا کہ یہ ایسا ہی کرے گا جیسا اس نے کیااور اس کا نتیجہ بھی وہی ہوگا جیسا ہوا اسی لیے نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حکم دیا کہ جب تمہارا کوئی کام تمہاری تَوَقُّع کے خلاف واقع ہوجائے تو اس وقت تم یہ کہو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مُقَدَّر فرمایا اور جو چاہا وہ کیا۔ نیزلفظِ ”اگر“ کا استعمال تمام احوال اور تمام صورتوں میں مکروہ نہیں بلکہ اسی صورت میں مَمْنُوع ہےکہ جس میں تقدیر سےمخالفت اور دُنیاوی مُعاملات میں سے کسی چیز کے ضائع ہونے پر افسوس کیا جائے۔علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ ہاں اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت فوت ہونے پر افسوس کرتے ہوئے ”اگر“ کالفظ استعمال کرے تو اس پر ثواب ہے اور مناسب ہے کہ اسے مستحب چیزوں میں شمار کیا جائے۔ ‘‘ امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسَیِّدُنَا ابو عَمرو رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کرتے ہیں کہ ’’ جس نے اپنی دنیاوی چیز فوت ہونے پر افسوس کیا وہ جہنم سے ایک ہزار سال کی مسافت قریب ہو گیا اور جس نے اپنی آخرت میں سے کسی چیز کے فوت ہونے پر افسوس کیا تو وہ جنت سے ایک ہزار سال کی مسافت قریب ہو گیا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عوف بن
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب القدر، باب الایمان للقدر والاذعان لہ، ۸ / ۲۱۶، الجزءالسادس عشر ۔