گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ۔ہائے افسوس !“یہ اگر مگر عبادت ہے۔”اگر میں حضور کے زمانہ پاک میں ہوتا توحضور کے قدموں پر دل و جان قربان کردیتا مگر میں اتنے عرصے بعد پیدا ہوا، ہائے افسوس !“یہ عبادت ہے۔ اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ نے فرمایا:
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن
مگر کریں کیا نَصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے (1)
لفظ ”اگر“کے بارے میں تحقیق:
حدیث مذکور میں ”اگر“ کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں کہ بعض علما ءنے کہا کہ ’’ یہ ممانعت اس وقت ہے کہ جب کوئی شخص یقین و وُجوب کے ساتھ کہے کہ اگر وہ یہ کام کرلیتا تو اس کو یہ مصیبت ہرگز نہ پہنچتی اور جو شخص اس معاملے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیّت پر چھوڑ دے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اسے جو کچھ مصیبت پہنچی ہے اس کے کرنے یا نہ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیّت اور اس کی تقدیر سے پہنچی ہے تو یہ اس ممانعت کے تحت داخل نہیں ۔ ‘‘ ان کی دلیل وہ تمام احادیث ہیں جن میں لفظ ’’ اگر ‘‘ والی عبارات موجود ہیں ۔ میرا مؤقف یہ ہے کہ حدیث میں ممانعت عمومی ہے لیکن یہ ممانعت بطریقِ ندب وتنزیہی ہے (یعنی ”اگر“ نہ کہنا مستحب ہے اور کہنا مکروہ تنزیہی) اور اس بات پر حضور کا یہ فرمان بھی دلالت کرتا ہے کہ ”اگر“ کا لفظ شیطانی عمل کھولتا ہے یعنی دل میں تقدیر کے مُعَارِض و مُخَالِف خیالات ڈالتا ہے اور اس سے شیطانی وسوسے پیدا ہوتے ہیں ۔ ‘‘ (2) (لہذا اس کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔)
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ظاہر یہ ہی ہے کہ بے فائدہ لفظ”اگر“ کا استعمال کرنا مطلقًا ممنوع ہے (چاہے ماضی میں ہو یامستقبل میں ) اور یہ ممانعت مکروہ تنزیہی ہے
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ٧ / ۱۱۳۔
2 - اکمال المعلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔ الخ ،۸ / ۱۵۷، تحت الحدیث: ۲۶۶۴۔