Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
181 - 662
حدیث پاک میں ہے، حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو تجھے ملناہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ تجھے نہ ملے اور جو تجھے نہیں ملنا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ تجھے مل جائے۔ ‘‘  (یعنی جس کا ملنا مقدر ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور جس کا نہ ملنا مقدر ہے وہ مل نہیں سکتا۔) اور قرآن پاک میں ایک اور مقام پر اللہ عَزَّوَجَلَّ نےارشاد فرمایا:
لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ  (پ۲۷،  الحدید: ۲۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اس ‏لیے کہ غم نہ کھاؤ اس  پر جو ہاتھ سے جائے۔“
ہاں لیکن تم زبان حال یا زبان قال سے یہ کہو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے یہ ہی مُقَدَّر فرمایا تھا لہٰذا جو بھی ہوا اللہ عَزَّوَجَلَّکے فیصلے اور اس کی تقدیرکے مطابق ہی واقع ہوا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّجو چاہتا ہے کرتا ہے کیونکہ وہ  (فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُؕ (۱۶) )  (پ۳۰،  البروج:۱۶) ہے۔ (یعنی جب جو  چاہے کرے) اس کے فیصلے کو کوئی رَد اور اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ‘‘  (1) 
لفظ ”اگر“کے استعمال پر ثواب کی صورت:
حدیث پاک میں تقدیر کا انکار کرنے اور اپنی تدبیر پر بھروسہ کرتے ہوئے  ’’ اگر ‘‘ کہنے سے منع کیا گیاہے کہ اگر میں یوں کرلیتا توایسا ہوجاتاوغیرہ وغیرہ کیونکہ اس سے انسان کا تَوَکُّل اپنی تدبیر پر زیادہ اور مشیت الٰہی پر کم ہوتا ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے،  ربّ تعالٰی ناراض بھی ہوتا ہے،  اگر میں اپنا مال فلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ، ہائے بڑی غلطی کی،  یہ بُرا ہے۔لیکن دینی معاملات میں ایسی گفتگو اچھی،  یہاں دُنیاوی نقصانات مراد ہیں ۔ اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ ربّ تعالٰی پر نہیں رہتا،  اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے۔ خیال رہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے دینی کاموں میں اگر مگر اور افسوس و ندامت اچھی چیز ہے۔ (مثلاً) ”اگر میں اتنی زندگی اللہ کی اطاعت میں 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹‏ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔