تم کو دینی نفع دے اس میں قناعت نہ کرو، خوب حرص کرو، اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو مگر اپنی کوشش پر بھروسہ نہ کرو، اللہ پر تَوَکُّل کرو۔ خیال رہے کہ دنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلیٰ ہے دین کے کسی درجے پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو، آگے بڑھنے کی کوشش کرو ، ربّ فرماتاہے: ( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِﳳ-) (پ:۲، البقرۃ:۱۴۸) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:تو یہ چاہو کہ نیکیوں میں اوروں سے آگے نکل جائیں ۔) حریصِ مال برا مگر حریصِ عمل اچھا، ربّ تعالٰی نے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعریف میں فرمایا: (حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ ) (1) (پ:۱۱، التوبۃ:۱۲۸) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے۔)
جو کچھ ہوتا ہے مشیت الٰہی سے ہوتا ہے:
حدیث پاک کے آخر میں قوی مؤمن کی ایک اعلیٰ صفت یعنی ربّ تعالی کی مشیت پر ہر حال میں راضی رہنے اور اپنے تمام معاملات اس کے سپرد کرنے کا بیان ہے۔ کامل مسلمان کی یہ خاصیت ہے کہ وہ اسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسہ کرتا ہے اگرچہ وہ اسباب بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس کا بھروسہ اسباب و وسائل پیدا فرمانے والے ربّ عَزَّ وَجَلَّپرہی ہوتا ہے۔وہ اپنی تدبیر سے زیادہ مشیت الٰہی پر یقین رکھتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اس بات پر کامل اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ سب مشیت الٰہی سے ہے، میرا مالک قادرمطلق ہے وہ جیسے چاہے تصرف فرماتاہے۔چنانچہ،
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ اگرتمہیں تمہارے دینی یا دنیاوی اُمور میں کوئی مصیبت آپہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں اس طرح کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا کہ ایسا کہنا درست نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی فائدہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمادیا:
قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ- (پ۱۰، التوبۃ:۵۱)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ ’’ تم فرماؤ ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا۔ ‘‘
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۷ / ۱۱۲۔