فَقِیْلَ لِیْ:اُنْظُرْ اِلَی الْاُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌعَظِیْمٌ، فَقِیْلَ لِیْ:ہَذِہٖ اُمَّتُکَ، وَمَعَہُمْ سَبْعُوْنَ اَلْفاً یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ نَہَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَہُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی اُوْلَئِکَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمْ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: فَلَعَلَّہُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْاِسْلَامِ، وَلَمْ یُشْرِکُوْابِاللّٰہِ شَیْاً، وَذَکَرُوْااَشْیَاءَ، فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الَّذِیْ تَخُوْضُوْنَ فِیْہِ؟ فَاَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ہُمُ الَّذِیْنَ لَایَرْقُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَایَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلَی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ، فَقَامَ عُکَّاشَۃُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:اَنْتَ مِنْہُمْ، ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰہَ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْہُمْ فَقَالَ:سَبَقَکَ بِہَاعُکَّاشَۃُ. (1)
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاِرشادفرمایا : ’’ میرے سامنے اُمَّتیں پیش کی گئیں تو میں نے ایک نبی ( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا، اُن کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔ ایک نبی ( عَلَیْہِ السَّلَام) کو دیکھا اُن کے ساتھ ایک یا دو آدمی ہیں اور ایک نبی (عَلَیْہِ السَّلَام) کویوں دیکھا کہ اُن کے ساتھ کوئی بھی نہیں ۔اچانک ایک بہت بڑی جماعت میرے سامنے پیش کی گئی تومیں نے خیال کیا کہ شاید یہ میری اُمَّت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ( عَلَیْہِ السَّلَام) اور اُن کی اُمَّت ہے، البتہ آپ آسمان کے کنارے کی طرف دیکھئے، میں نے دیکھا تو وہاں ایک بہت بڑی جماعت تھی۔مجھے کہا گیا کہ دوسرے کنارے کی طرف دیکھئے تو وہاں بھی ایک بہت بڑی جماعت تھی۔ مجھ سے کہاگیا:یہ آپ کی اُمَّت ہے اور اِن کے ساتھ سترہزار 70000اَفرادایسے ہیں جو بِلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوئے اور کاشانہ ٔ اَقدس میں تشریف لے گئے ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بلا حساب وعذاب جنت میں داخل ہونے والوں کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ بعض نے کہا: ’’ شاید وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحبت یافتہ ہوں گے۔ ‘‘ بعض نے کہا : ’’ شاید وہ ہوں گے جومسلمان پیدا ہوئے اور پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
________________________________
1 - مسلم، کتاب الایمان ، باب الدلیل علی دخول طوائف ۔۔۔الخ، ص ۱۳۶، حدیث: ۲۲۰، بدون شیئا۔