سے نفع مند چیزوں کے حصول میں مدد چاہو اور اسی پر تَوَکُّل کرو اور اپنی کوششوں اور اسباب پر اعتماد نہ کرو بلکہ ہر معاملہ میں اس سے امیدرکھو اور اسی پر بھروسہ کرو جس نے اس سے مدد چاہی اس کی مدد کی گئی۔ ‘‘ (1)
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت و فرمانبرداری پر حرص کرواور اس کے ہاں جو انعام و اکرام ہیں اُن میں رغبت کرو، ان کے حصول میں اس کی مدد طلب کرو اور اس کی فرمانبرداری ومدد طلب کرنے میں سستی نہ کرو۔ ‘‘ (2)
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ممکن ہے کہ یہاں حرص کا حکم مؤمن قوی کے لیے ہو کہ وہ ان چیزوں پر حرص کرتا رہے جو اس کے لیے نفع بخش ہیں اور کسی بھی صورت اپنی کوشش کو ترک نہ کرےاور ضعیف مؤمن کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ اپنے اعمال کی قلت پر نظر رکھ کر عاجز نہ ہو بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد مانگے۔ ‘‘ (3) (تاکہ وہ بھی کامل مؤمنین کی فہرست میں شامل ہو جائے۔)
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ جو اعمال تمہیں دین کے معاملے میں نفع پہنچانے والے ہیں تم ان پر حریص ہوجاؤاور اپنے افعال پر اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرو کیونکہ نیک اعمال کی طاقت و قدرت عظمت والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے نیز اس حرص اور مددطلب کرنے سے عاجز نہ ہو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس پرہرطرح قادر ہے کہ وہ تمہیں اپنی اطاعت کی قوت عطا فرمائے بشرطیکہ تم استقامت سے مدد طلب کرتے رہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ ’’ تم ان چیزوں پر عمل کرنے سے عاجز نہ آؤ جن کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور ان نیک اعمال کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے توفیق طلب کرنے میں کمی کرنے کی وجہ سے ترک نہ کرو۔ ‘‘ (4)
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جو چیز
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی المجاھدۃ ، ۱ / ۳۱۷، تحت الحدیث: ۱۰۰۔
2 - شرح مسلم للنووی،کتاب القدر ، باب الایمان للقدر ۔۔۔الخ، ۸ / ۲۱۵،الجزء السادس عشر ۔
3 - شرح الطیبی، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۴۰۸، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
4 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔