Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
178 - 662
ہے۔ حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب فرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن اور ضعیف مؤمن صفت ایمان کی وجہ سے بھلائی میں دونوں برابر ہیں لیکن اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنی جنت میں ان دونوں کے مراتب میں فرق رکھا ہے اور ان کو ایک دوسرے پر درجوں میں بلندی عطا فرمائی ہے۔‘‘  (1) 
حرص کسے کہتے ہیں ؟ 
حدیث پاک میں قوی اور ضعیف مؤمن کے بیان کے بعد نفع دینے والے چیزوں پر حرص کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘  ص۱۱۶پر ہے:  ’’ خواہشات کی زیادتی کے اِرادے کا نام حرص ہے اوربُری حرص یہ ہے کہ اپنا حصہ حاصل کرلینے کے باوجود دوسرے کے حصے کی لالچ رکھے ۔ یا کسی چیز سے جی نہ بھرنے اور ہمیشہ زیادتی کی خواہش رکھنے کو حرص ، اور حرص رکھنے والے کو حریص کہتے ہیں ۔ ‘‘ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ حرص کا تعلق صِرْف  ’’ مال ودولت  ‘‘  کے ساتھ ہوتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ حرص تو کسی شے کی مزید خواہش کرنے کا نام ہے اور وہ چیز کچھ بھی ہوسکتی ہے، چاہے مال ہو یا کچھ اور!چنانچہ مزید مال کی خواہش رکھنے والے کو  ’’ مال کا حریص ‘‘  کہیں گے تو مزید کھانے کی خواہش رکھنے والے کو  ’’ کھانے کا حریص ‘‘   کہا جائے گااور نیکیوں میں اِضافے کے تمنائی کو  ’’ نیکیوں کا حریص  ‘‘  جبکہ گناہوں کا بوجھ بڑھانے والے کو ’’  گناہوں کا حریص  ‘‘ کہیں گے ۔ ‘‘ 
نیکیوں کی حرص:
حدیثِ مذکور میں جس حرص کا حکم دیا گیا ہے وہ نیکیوں اور آخرت اور دنیا کی ان چیزوں کی ہے جو ہمارے دین اہل و عیال اور اچھے اَخلاق میں مُعاوِن ثابت ہوں ۔چنانچہعلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اپنے دینی اور دنیاوی امور میں سے ان چیزوں کو حاصل کرنے میں حرص کرو جو تمہارے دین ،  اہل وعیال اور اچھے اخلاق میں تمہاری معاونت کریں اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 



________________________________
1 -   اکمال المعلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔ الخ ،۸ ‏ / ۱۵۷، تحت الحدیث: ۲۶۶۴۔