Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
177 - 662
اَذِیَّت پر صبر کرتا ہے۔ ‘‘  (1) 
علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن وہ ہے  جو بدن اور نفس کے اعتبار سے طاقتور ہو اس طور پر کہ اس کا نفس پختہ ارادے کے ساتھ نیکیوں پر ابھارنے والا ہو اور اس کا بدن تمام عباداتِ بدنیہ جیسےحج،  روزہ،  نیکی کی دعوت اور ان جیسے وہ نیک اَعمال جن پر دین کی بنیاد ہے، ان تمام کو بجا لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ ‘‘  (2) 
ضعیف مؤمن کون ہے؟ 
شارحین حدیث نے ضعیف مؤمن کی کوئی خاص تعریف بیان نہیں کی  بلکہ مؤمن قوی کی ضد کو مؤمن ضعیف کہا ہے۔  عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ ضعیف مؤمن کی کیفیت قوی مؤمن کے برخلاف ہوتی ہے  (یعنی اُس کا اعتقاد مُسَبِّبُ الاَسْبَاب پر کمزور اور اَسباب پر زیادہ ہوتا ہے) تو یہ شخص ایمان کے ادنیٰ درجہ پرہے ۔ ‘‘  (3)  
قوی اور ضعیف دونوں مؤمنوں میں بھلائی ہے:
مؤمن قوی ہو یا ضعیف دونوں میں خیر ہے کیونکہ دونوں صاحبِ ایمان ہیں ۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ خواہ مؤمن قوی ہو یا کمزور کوئی مسلمان صفات خیر سے خالی نہیں ہوتا اور ایمان صفات خیر میں سب سے افضل ہےلہٰذا دونوں میں بھلائی ہے۔ ‘‘  (4) 
قوی وضعیف مؤمن کا جنتی درجات میں فرق:
قوی اور ضعیف مؤمن اگرچہ دونوں میں بھلائی ہے لیکن عنداللہ دونوں کا مقام و مرتبہ جدا جدا 



________________________________
1 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹‏ / ۱۵۳، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
2 -   دلیل الفالحین، باب المجاھدہ، ۱‏ / ۳۱۷، تحت الحدیث: ۱۰۰۔
3 -   مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹‏ / ۱۵۴، تحت الحدیث: ۵۲۹۸۔
4 -   اشعۃ اللمعات،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر، ۴‏ / ۲۵۷، ۲۵۸۔