Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
176 - 662
قوی مؤمن کون ہے؟ 
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں قوت سے مراد آخرت کی تیاری میں انسان کی طبیعت اور نفس کا پختہ ارادے کے ساتھ کوشش کرنا ہے۔ پس جس شخص میں یہ صفات ہوتی ہیں وہ کثرت سے جہاد میں شریک ہوتا ہے،  دشمن کے خلاف پیش قدمی کرنے میں جلدی کرتا ہے، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں بہت زیادہ کوشش کرتا ہے اور ان تمام کاموں میں پہنچنے والی  تکلیفوں پر صبر کر تا ہے ۔نیز صوم و صلاۃ،  ذکر و اَذکار اور تمام عبادات میں نشاط کے ساتھ رغبت رکھتا اور ان پر محافظت کرتا ہے۔ ان صفات کا حامل شخص قوی مؤمن ہے۔ ‘‘  (1) 
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّاب نے قوی مؤمن کی دو تعریفات ذکر فرمائی ہیں : ایک تو وہی ہے جو شرح نووی کے حوالے سے ابھی ذکر ہوئی اور دوسری تعریف یہ ہے کہ  ’’ قوی مؤمن وہ شخص ہے  جو مالی اعتبار سے مستحکم ہواور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں کثرت سے خرچ کرنے والا ہونیز اس مال سے دنیا کا طلبگار اور دُنیاوی مال و متاع جمع کرنے پر حریص نہ ہو۔ ‘‘  (2) 
 عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ قوی مؤمن سے مرادوہ شخص ہے جو اپنے ایمان اور یقین میں اس طرح مضبوط اور کامل ہوکہ اسے اَسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَابیعنی اللہ  عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ ہو۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق  ’’ قوی مؤمن سے مراد وہ ہے کہ جو لوگوں کی صحبت و ہم نشینی اور ان کی طرف سے پیش آنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے اور انہیں خیر و بھلائی کی تعلیم دے۔ ‘‘ اس تعریف کی تائید اُس حدیث پاک سےبھی ہوتی ہے جو حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مرفوعاً مروی ہے کہ  ’’ وہ مؤمن جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھتا ہے اور ان کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتُوں پر صبر کرتا ہے،  اس مؤمن سے افضل ہے جو نہ لوگوں سے اِختلاط رکھتا ہے اور نہ ان کی 



________________________________
1 -   شرح مسلم للنووی،کتاب القدر ، باب الایمان للقدر۔۔۔ الخ،۸‏ / ۲۱۵،الجزء السادس عشر ۔
2 -   اکمال المعلم، کتاب القدر ، باب فی الامر بالقوۃ وترک العجز۔۔۔ الخ ،۸ ‏ / ۱۵۷، تحت الحدیث: ۲۶۶۴۔