Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
175 - 662
(1)	عبادت کے لیے اپنے گھر والوں کو جگانا اور انہیں نیک افعال کی ترغیب دینا سنت سے ثابت ہے۔
(2)	رات میں عبادت کرنا گویا کہ رات کو زندہ کرنے کی طرح ہے۔
(3)	انسان کی اصل زندگی عبادتِ الٰہی میں ہے ، عبادت سے خالی زندگی، زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔
(4)	رمضان المبارک میں راتوں کو جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے خصوصاً آخری عشرے میں ۔
(5)	شب قدر کی تلاش میں رمضان کی طاق راتوں میں عبادت کرنا سنت سے ثابت ہے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں اور بالخصوص اس کے آخری عشرے میں خود بھی نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب و تلقین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔		
							آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :100	                  
قَوِی مُؤمن ضعیف مُؤمن سے بہتر ہے
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :الْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ وَاَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنَ الْمُوْ مِنِ الضَّعِیْفِ،  وَفِیْ کُلٍّ خَیْرٌ، اِحْرِصْ عَلَی مَا یَنْفَعُکَ،  وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجِزْ،  وَاِنْ اَصَابَکَ شَیْء ٌ فَلَا تَقُلْ:لَوْ اَنِّیْ فَعَلْتُ کَانَ کَذَا وَکَذَا،  ولٰکِنْ قُلْ:قَدَّرَ اللّٰہُ وَمَا شَاء َ فَعَلَ،  فَاِنَّ ”لَوْ“ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ.  (1) 
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک قوی مؤمن ضعیف مؤمن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے البتہ ہر ایک میں بھلائی ہے۔ تو تم اُس چیز کی خواہش کرو جو تمہارے لیے نفع بخش ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے مدد طلب کرو اور عاجز نہ ہو جاؤاور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچے تو یہ نہ کہوکہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا بلکہ یوں کہو کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مقدر فرمایا اور جو چاہا وہ کیا۔کیونکہ لفظ ”اگر“شیطانی عمل کھولتا ہے۔ ‘‘ 



________________________________
1 -   مسلم، کتاب القدر ، باب فی الامر با لقوۃ و ترک العجز۔۔۔الخ ، ص۱۴۳۲، حدیث: ۲۶۶۴۔