Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
174 - 662
اعتکاف کا مقصدعظیم:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رمضان المبارک کے آخری عشرے بلکہ پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کرنا بھی سنت سے ثابت ہے،  لہذا اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار تو پورے رمضان المبارک کے اعتکاف کی سعادت حاصل کرلینی چاہیے نیز ہرسال کم ازکم آخری دس دن کے اعتکاف کی کوشش تو ضرور کرنی چاہیے۔رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قَدْر کی تلاش ہے اور راجِح  (یعنی غالِب )  یہی ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخِری دس۱۰ دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے۔ شب قدر بدلتی رہتی ہےیعنی کبھی اکیسویں ، کبھی تئیسویں ۲۳ ، کبھی پچیسویں ۲۵ کبھی ستائیسویں ۲۷ توکبھی اُنتیسویں ۲۹ شب۔ مسلمانوں کو شب قدر کی سعادت حاصِل کرنے کے‏لیے آخِری عشرے کے اِعتِکاف کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ کیوں کہ معتکف دسوں ۱۰ دن مسجِدمیں ہی پڑا رہتاہے اوران دس ۱۰ دنوں میں کوئی بھی ایک رات شب قدرہوتی ہے۔لہٰذاوہ یہ شب مسجِد میں گزارنے میں کامیاب ہو جاتاہے۔
رمضان المبارک کے فضائل،  رمضان المبارک کی مبارک راتوں میں اعتکاف کی ترغیب وفضائل،  اور شب قدرکے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے شیخ طریقت،  امیر اہلسنت،  بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف  ’’ فیضان سنت ‘‘   کے باب  ’’ فیضانِ رمضان ‘‘   کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ”ابوبکر“کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)	حضور نبی کریم  رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے۔