Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
173 - 662
عشرے میں عبادت میں  کثرت ورغبت اور مشقت کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ، 
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان  کے آخری عشرے میں دوسرے دنوں کی بنسبت زیادہ عبادت کرتے تھے کیونکہ ان  ایام میں وہ لیلۃ القدر پوشیدہ ہے جس میں عبادت کرنا ہزار سال کی عبادت سے  افضل ہے۔ ‘‘  (1) 
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا رمضان کے آخری عشرے میں بہت زیادہ عبادت کرنااس احتمال کی وجہ سے تھا کہ رمضان ناقص  (یعنی29 دن کا)  بھی ہوسکتا ہے اور کامل  (یعنی30 دن کا)  بھی،  تو جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دس کی دس راتوں میں عبادت کرلی تو کسی طاق یا جفت رات کی عبادت فوت نہ ہوئی۔ ‘‘  (یعنی وہ تمام راتیں جن میں لیلۃ القدر ہونے کا امکان ہوتا ہے ان سب کو آپ نے پالیا۔)  ایک قول یہ بھی ہے کہ  ’’ رمضان کے آخری عشرے میں جو اعمال کیے جائیں گے یہ اس ماہ کے آخری عمل ہیں پس چاہیے کہ ان ایام میں کثرت سے عبادت کی جائےتاکہ یہ مبارک ماہ اچھی طرح اختتام پذیر ہو۔ ‘‘  (2) 
تہبند مضبوط باندھ نے سے کیا مراد ہے؟ 
حدیث پاک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے ساتھ اس بات کا بھی تذکرہ ہوا ہے کہ آپ اپنا تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے تھے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ ان الفاظ کےمعنی میں علماء کااختلاف ہے،  ایک معنی یہ ہےکہ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  بقیہ مہینوں کی بنسبت رمضان کے آخری عشرے میں عبادت میں زیادہ کوشش کرتےتھے یعنی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے اور ہر چیز سے خود کو فارغ کر لیتے اور دوسرے قول کے مطابق یہ جملہ عبادت میں مشغولیت کی بنا پر اَزواج سے علیحدگی اختیار کرنے پر کنایۃً بولا جاتا ہے۔ ‘‘  (3) 



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب المجاھدہ، ۱‏ / ۳۱۵، تحت الحدیث: ۹۹۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان، ۸‏ / ۲۶۴، تحت الحدیث: ۲۰۲۴۔
3 -   شرح مسلم للنووی، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر۔۔۔الخ، ۴‏ / ۷۰، الجزء الثامن۔