استطاعت رکھتا ۔ ‘‘ (1)
گھر والوں کو نیکی کی دعوت:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کو نفلی اعمال کی ترغیب دلائے اور اُنہیں فرائض کے علاوہ دیگر نیک اعمال کرنے کا بھی حکم دے یعنی ترغیب دلائے اور اعمال صالحہ کرنے پر بھر پور انداز میں اُبھارے۔ ‘‘ (2)
ایک اہم وضاحت:
حدیث پاک میں اس بات کا ذکرہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گھر والوں کو جگاتے تھے اس سے ایسا لگتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گھر والوں کے ساتھ گھر میں ہوتے تھے حالانکہ آپ تو حالتِ اعتکاف میں تھے اور حاجت طبعی کے علاوہ گھر تشریف نہ لے جاتے تو پھرآپ اپنے گھر والوں کو کس طرح جگاتے تھے؟ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے اس اِشکال کے چند جوابات بیان کیے ہیں : (۱) مسجد میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو آپ کے گھر کی طرف کھلتا تھااسی دروازے سے آپ اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے۔ (۲) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ حاجتِ طبعی کے لیے گھر تشریف لے جاتے تو اس وقت گھر والوں کو جگا دیا کرتے تھے۔ (3)
آخری عشرے میں زیادہ عبادت کی وجوہات:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ طیبہ کا ہر ہر لمحہ اطاعت خداوندی میں گزرا لیکن چند مخصوص ایام ایسے بھی ہیں جن میں آپ کثرت سے عبادت فرماتے جیساکہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ۔شارحین حدیث نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آخری
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب المجاھدہ، ۱ / ۳۱۵، تحت الحدیث: ۹۹۔
2 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الصیام ، باب العمل فی العشر الاواخر، ۴ / ۱۵۹۔
3 - عمدۃ القاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان، ۸ / ۲۶۴، تحت الحدیث: ۲۰۲۴۔