Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
171 - 662
 اپنے آپ کو مردہ بنانے کے مترادف ہے۔ ‘‘  (1)  
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنا یہ مجازاً کہا گیا ہے۔ کیونکہ جب بندہ نیک اعمال کرنے کے لیے رات کو جاگاتو گویا اس نے رات کو زندہ کردیا کیونکہ نیند موت کی بہن ہے نیز حدیث پاک میں ہے:”اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔“یعنی پوری رات سوتے ہی نہ رہو کہ مُردوں کی طرح ہوجاؤاور تمہارے گھر قبرستان ہوجائیں ۔ ‘‘  (2) 
عبادت کے لیے گھر والوں کو جگانا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کی مبارک راتوں میں عبادت کا نہ صرف خود اہتمام فرماتے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے،  معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی مبارک راتوں میں عبادت کرنا اور اپنے گھروالوں کو بھی عبادت کے لیے جگانا دونوں سنت سے ثابت ہیں ۔چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ  ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اپنے اہل یعنی گھروالوں کو بھی جگاتے تاکہ وہ بھی عبادت کریں اور شبِ قدر کو تلاش کرنے کی سعادت سے محروم نہ رہیں ۔ ‘‘ 	 (3) 
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اہل یعنی گھر والوں کو نماز کے لیے جگاتے تاکہ وہ بھی ان مبارک گھڑیوں کی فضیلت سے آگاہ ہوجائیں اور ان مبارک ساعتوں میں نیک اعمال کرنے کو غنیمت جانیں جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنَا  زینب بنت اُمّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے محبوب،  دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر والوں میں سے ہر اس فرد کو جگاتے جو قیام کی 



________________________________
1 -   اشعۃ اللمعات،کتاب الصوم، باب لیلۃ القدر،۲‏ / ۱۲۳۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب فضل لیلۃ القدر، باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان، ۸‏ / ۲۶۴، تحت الحدیث: ۲۰۲۴۔
3 -   اشعۃ اللمعات،کتاب الصوم، باب لیلۃ القدر،۲‏ / ۱۲۳۔