Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
170 - 662
 ہوں اور فارغ ہوں ۔
 ’’ رات کو زندہ کرنا ‘‘ کے مختلف معانی:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں ہے کہ  ’’ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو زندہ کرتے۔ ‘‘ شارحینِ حدیث نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں ۔چنانچہ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنے کی دو ۲صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) اگر ہم عبادت کرنے والےکے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی شخص اُس نیند کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے جسے موت کہا گیا ہے تو گویا  اس نے اپنے آپ کو زندہ کردیا جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-  (پ:۲۴،  الزمر:۴۲)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اللہ جانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں اُنہیں ان کے سوتے میں ۔
 (2) اور اگر ہم رات کے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ رات بھر قیام کرنے کی وجہ سے عابد کی رات دن کی طرح ہوگئی گویا کہ اس نے رات کو زندہ کردیا کہ رات کو ( آرام کرنے کے بجائے) اسے عبادت و طاعت میں گزار دیا۔ لہذا جس نے رمضان کی آخری راتوں میں خوب عبادت کی اور تمام راتوں کو جاگ کر گزارا تو اس نے ان راتوں کی برکتوں سے اپنا حصہ پالیا اور جس نے رات کے کچھ حصے میں عبادت کی تو اس نے کچھ حصہ ہی پایا۔ ‘‘  (1) 
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی رات کو زندہ کرنے کے دو۲ معنی بیان کیے ہیں :  ’’  (1)  رات کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ وقت کی زندگی اور تازگی اس میں عبادت کرنے سے ہوتی ہے۔  (2)  رات کے وقت اپنے آپ کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ انسان کی زندگی شب بیداری  (جاگنے) میں ہے کیونکہ نیند موت کی طرح ہےچنانچہ عبادت میں شب بیدرای کرناگویا کہ خود کو زندہ کرنا ہے اور بیکار رہنا



________________________________
1 -   شرح الطیبی، کتاب الصوم ، باب لیلۃ القدر،۴‏ / ۲۴۶، تحت الحدیث: ۲۰۹۰۔