Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
17 - 662
رِزق دس 10دن سے منتظر تھا:
ہمارے اَسلاف توکل کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ اُن کے توکل کا یہ عالَم  تھا کہ کئی کئی روز بھوکا رہنے کے باوجود بھی رزق کے معاملے میں کبھی وسوسوں کا شکار نہ ہوتے اور پھر اُن کا رزق اُن تک خود پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاابو یعقوب اَقْطَعْ بَصْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ایک بار  مجھے دس دن تک کھا نے کو کچھ نہ ملا۔ کمزوری و گھبراہٹ بڑھی تو میں رزق کی تلاش میں قریبی وادی کی طرف چل دیا۔ راستے میں ایک شلجم پڑا دیکھا تو اُٹھا لیا،  مگر یوں محسوس ہو ا جیسے کوئی کہہ رہا ہوکہ دس دن بھوکا رہنے کے بعد بھی یہ باسی شلجم کھاؤ گے؟  چنانچہ میں نے وہ نہ کھایااور مسجد میں آگیا ۔کچھ دیر بعد ایک عجمی آیا اور اُس نے مصری کیک،  بادام اور شکر سے بھرا ہوا تھیلا میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا : ’’ یہ سب آپ کے ‏لیے ہے۔ ‘‘  میں نے حیران ہو کر سبب دریافت کیا تو کہنے لگا : ’’ آج سے دس روز پہلے ہماری کشتی ڈوبنے لگی تو میں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں نجات عطا فرمائی تو یہ تھیلا میں اُسے  دوں گا جومجھے مسجد میں سب سے پہلے ملے گا ۔چونکہ سب سے پہلے مجھے آپ ہی نظر آئے اِس ‏لیے یہ سامان آپ کاہے۔  ‘‘ یہ سن کرمیں نے اُس میں سے کچھ چیزیں لیں اوربقیہ ا ُس کے بچوں کے ‏لیے واپس کر دیں ۔پھر میں نے اپنے دل  میں کہا:  ’’ تیرا رزق دس10دن سے تیرا منتظر تھا اور تو اُسے وادی میں تلاش کررہا تھا۔ ‘‘  (1) 
<
حدیث نمبر:74   
	 رسول اللہ کے سامنے اُمَّتُوں کا پیش ہونا
عَنِْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الْاُمَمُ،  فَرَاَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَہُ الرُّہَیْطُ،  وَالنَّبِیَّ وَمَعَہُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ،  وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَہُ اَحَدٌ،  اِذْرُفِعَ لِیْ سَوَادٌ عَظِیْمٌ فَظَنَنْتُ اَنَّہُمْ اُمَّتِیْ،  فَقِیْلَ لِیْ:ہَذَا مُوْسٰی وَقَوْمُہُ،  وَلَکِنِ انْظُرْ   اِلَی الْاُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیْمٌ، 



________________________________
1 -    رسالۃ قشیریۃ، باب التوکل، ص۲۰۶ ملخصا۔