Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
169 - 662
(1)	حصولِ انعامات کے لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرنا تاجروں ،  جہنم سے بچنے کے لیے عبادت کرنا غلاموں اور اِنعاماتِ الٰہیہ کا شکر ادا کرنے کے لیے عبادت کرنا آزاد لوگوں کا طریقہ ہے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا کے لیے خوب خوب عبادت کرنے اور فرائض و سنن کے ساتھ ساتھ نوافل اور دیگر مستحبات بجالانے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :99 	
رسولُ اللہ کا جَذْبَۂ عِبَادَت
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُُ عَنْہَا اَنَّہَاقَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اَحْیَا اللَّیْلَ،  وَاَیْقَظَ اَہْلَہُ،  وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ.  (1) 
وَالْمُرَادُ: اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ.وَ”المِئْزَرُ“اَلْاِزَارُ،  وَ ہُوَ کِنَایَۃٌ عَنْ اِعْتِزَالِ النِّسَاءِ. وَقِیْلَ: اَلْمُرَادُ تَشْمِیْرُہُ لِلْعِبَادَۃِ .یُقَالُ: شَدَدْتُ لِھٰذَا الْاَمْرِ مِئْزَرِیْ، اَیْ تَشَمَّرْتُ ، وَتَفَرَّغْتُ لَہُ.
ترجمہ :اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ: ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو زندہ کرتے  (یعنی شب بیداری فرماتے)  اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے۔ ‘‘  (یعنی عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔) 
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ “ سے مراد رمضان کا مہینہ ہےاور ”المِئْزَرُ“سے مراد اِزار یعنی تہبند ہے۔اور اس جملے میں ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے اجتناب کرنے کے متعلق کنایہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے اس سے مراد عبادت میں کوشش کرنا ہےجیساکہ کہاجاتاہے میں نے اس کام کے لیے اپنی کمر کس لی۔ یعنی میں اس کام کے لیے تیار



________________________________
1 -   مسلم، کتاب الاعتکاف، باب الاجتھاد فی العشر الاواخر، ص۵۹۸، حدیث: ۱۱۷۴۔