قوم فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرنے کے لیے عبادت کرے تو یہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔ ‘‘ (1)
رات کی عبادت نے بخشوادیا:
حضرت سَیِّدُنَا قَبِیْصَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سَیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو اُن کے انتقال کے بعد خواب میں دیکھ کر پوچھا: ’’ مَا فَعَلَ اللہُ بِکَیعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّ کی بلا حجاب زیارت کی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’ اے ابنِ سعید! تجھے مبارک ہو ، میں تجھ سے راضی ہوں کیونکہ جب رات ہوجاتی تھی تو تم آنسوؤں اور رقتِ قلبی کے ساتھ میری عبادت کرتے تھے۔ جنت تمہارے سامنے ہے جو محل لینا چاہو لے لو اور میری زیارت کرو کیونکہ میں تم سے دور نہیں ہوں ۔ ‘‘ (2)
مدنی گلدستہ
’’ مُجَاہَدَہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) عبادت میں ایسی کثرت کرنا جو فرائض ودیگر حقوق العباد کی ادائیگی میں خلل نہ ڈالے جائز ہے۔
(2) فرائض وواجبات کے علاوہ جس کی جتنی اِستطاعت ہو اُسے اتنی نفلی عبادت کرنی چاہیے۔
(3) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ساری رات ربّ کی عبادت کرنا اِنعاماتِ الٰہیہ کے شکرکے لیےتھا۔
(4) جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کثرت سے عبادت کی توفیق دے تو اس کے لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت بہترین نمونہ ہے۔
(5) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سید المعصومین ہونے کے باوجود راتوں کو کثرت سے عبادت کی ، ہم گنہگاروں کو تو زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوب عبادت کریں ۔
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوۃ، باب التحریض ۔۔۔الخ، ۳ / ۲۹۶، تحت الحدیث: ۱۲۲۰۔
2 - حلیۃ الاولیاء، سفیاں الثوری، ۷ / ۷۷۔