حضور کا رات بھر عبادت کرنے کی وجوہات:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ حدیث پا ک میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا کا حضورنبی مکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کرنا تعجب کے طور پر تھا کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَامتو بخشے بخشائے ہیں تو پھر اتنی عبادت کس لیے؟ تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جواباً ارشاد فرمایا : کیا مجھے شکر گزار بندہ بننا پسند نہیں ؟ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مغفرت اور اس کے مجھ پر جو انعامات ہیں اُن کا شکر ادا نہ کروں ؟ ‘‘ نیزعلامہ ابن حجر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہشرح شمائل میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ کیا میں اس وجہ سے عبادت میں مشقت کوچھوڑ دوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفرت فرمادی ہے اور میں اس کا شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ اگرچہ اس نے میری بخشش فرمادی ہے لیکن میں نے کثرت عبادت کو خود پر اس لیے لازم کرلیا ہے تاکہ میں اس کا شکر گزار بندہ بن جاؤں ۔ ‘‘ نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَام کے قول ” کیا میں اس کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟ “ کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’ میرا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا گناہوں کے خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کثیر انعامات کا شکر ادا کرنے کے لیےہےجو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے عطا فرمائے ہیں ۔ ‘‘ (1)
عبادت گزاروں کی تین اقسام:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عبادت میں مَشَقَّت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے حصول اوردرجات کی بلندی کا باعث ہے۔ ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی رضائے الٰہی کی خاطر راتوں کو طویل قیام و سجود فرماتے۔ واضح رہے کہ عبادت گزاروں کی تین اقسام ہیں ۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں : (۱) ’’ جو قوم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اس لیےکرے کہ اس کے بدلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے انعامات و مغفرت حاصل کرے تو یہ تاجروں کی عبادت ہے ۔ (۲) جو قوم جہنم کے خوف کی وجہ سے عبادت کرے تو یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ (۳) اور جو
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب التحریض علی قیام اللیل، ۳ / ۲۹۶، تحت الحدیث: ۱۲۲۰۔