Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
166 - 662
 قَدَمَاہُ،  فَقُلْتُ  لَہُ: لِمَ تَصْنَعُ ہٰذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ؟  قَالَ: اَفَلَا اُحِبُّ اَنْ اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا؟  (1) 
 ترجمہ  : اُمُّ المؤمنین حضرت  سَیِّدَتُنَا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات میں اتنا طویل قیام فرماتے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین شریفین شق ہو جاتے۔ میں نے عرض کی: ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ ایسا کیو ں کرتے ہیں ! حالانکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سبب آپ کے   اگلوں پچھلوں کے گناہ بخش دئیے ہیں ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’  کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟  ‘‘ 
عبادت میں شدت کرنا:
شارح حدیث حضرت علامہ ابن بطال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں کہ : ’’ انسان کا اپنے آپ پر عبادت میں شدت کرناجائز ہے اگرچہ وہ عبادت اس کے بدن کو تکلیف پہنچائے اور اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ شدت نہ کرے بلکہ صرف وہ عبادت کرے جو اس کے لیے آسان ہو۔ لیکن افضل یہی ہے کہ وہ کثرت سے عبادت کرے،  کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  فرمایا:” کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ؟  ‘‘  پھر جو شخص اس بات سے ہی بے خبر ہے کہ وہ جنت کا مستحق ہے یا جہنم کا تو اس کے لیے عبادت کی کثرت کیسے  ضروری نہ ہوگی؟  پس جسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کثرت سے عبادت کی توفیق دے تو اس کے لیے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت بہترین نمونہ ہے۔بے شک انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے اس کی صفات کے بارےمیں  علم رکھنے اور اس کی بے شمار نعمتوں کے سائے میں ہونے کی بنا پر اس کے عذاب سے محفوظ ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نےاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف  سے کثرتِ عبادت کو اپنے اوپر لازم کیا۔ ‘‘  (2) 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب التفسير، باب ليغفر لك   اللہ ما تقدم  من ذنبک و ما تاخر۔۔۔الخ، ۳‏ / ۳۲۹، حدیث: ۴۸۳۷۔
2 -   شرح بخاری لابن بطال، کتاب الصلاۃ، باب قیام اللیل، ۳‏ / ۱۲۱۔