Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
165 - 662
ریاضت کے یہی دن ہیں ،  بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اب کرلو،  ابھی نوری جواں تم ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
”صدیق“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)	تندرستی اور فراغت یہ دو  ایسی نعمتیں ہیں کہ جن سے اکثر لوگ  غافل ہیں ۔لہٰذا ان نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے  اَعمالِ صالحہ کی کثرت کرنی چاہیے ۔ 
(2)	دنیا آخرت کی کھیتی ہے  اس میں جیسا بیج ڈالیں گے  آخرت میں و یسا ہی  پھل ملے گا۔  
(3)	وقت کی اہمیت کا اس بات سے اندزاہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنت میں  کسی شے کی حسرت نہ ہوگی سوائے اس وقت کے جو دنیا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذ کر کے بغیر گزرا۔
(4)	جو صحت و فراغت میں نیک  اعمال نہ کر سکے تو  اسے سوچ لینا چاہیے کہ  صحت  کے بعد بیماری اور فراغت کے بعد مصروفیت   ہے  اور بیماری و مصروفیت میں   عبادت کا موقع بہت ہی  کم  ملتا ہے ۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں  بیماری و بے جا مصروفیت  سے پہلے  اَعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور موت آنے سے پہلے اپنی موت کی تیاری کرنے کی  توفیق عطا فرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :98    	     
رسولُ اللہ کاکثرت سے عِبَادَت کرنا
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْمُ مِنَ اللَّیْلِ حَتّٰی تَتَفَطَّرَ