Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
163 - 662
وجہ سے عبادت نہیں کر پاتا )  تو جسے صحت وفراغت  کی نعمت ملے  اور وہ  پھر بھی فضائل حاصل  کرنے میں کوتاہی کرے تو  ایسا شخص  سرا سردھوکے وغفلت  میں ہے۔ ‘‘  (1) 
دنیا آخرت کی کھیتی ہے:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبۡنِ حَجَرْ عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے،  اس  میں کی گئی تجارت کا نفع آخرت میں ظاہر ہوگا۔ تو جس نے  صحت وفراغت میں  احکامِ خداندی کی پیروی کی وہ قابلِ رشک وخوش نصیب ہے اور جس نے اپنے فارغ اوقات اور صحت کے ایام کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی میں گزارا تو وہ غافل اور نقصان اٹھانے والا  ہے کیونکہ  فراغت  کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آتی ہے اور اگربیماری نہ بھی  آئے تو بڑھاپا آتا ہے ۔ ‘‘  (2)  (جو خود بسا اوقات بیماریوں کا مجموعہ ہوتاہے۔) 
دنیا کی حقیقت:
مُفَسِّرشہِیر،  مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ تندرستی اور عبادت کے لیے موقع مل جانا اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) کی بڑی نعمتیں ہیں ۔ مگر تھوڑے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اکثر لوگ اِنہیں دنیا کمانے میں صَرف کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا، مشقت سے اس کی حفاظت کرنا،  حسرت سے چھوڑنا ۔خیال رہے کہ فراغت اور بیکاری میں فرق ہے فراغت اچھی چیز ہے بیکاری بُری چیز۔ فرمایا نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے کہ جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہ کریں گےسوائے اُن ساعتوں کے جو اُنہوں نے دنیا میں اللہ کے ذکر کے بغیر صَرف کردیں ۔ ‘‘  (3)  



________________________________
1 -   عمدۃ القاری،کتاب الرقاق،باب ماجاء فی الصحۃ،۱۵‏ / ۴۹۷، تحت الحدیث: ۶۴۱۲۔
2 -   فتحُ الباری، کتاب الرقاق ، باب ماجاء فی الرقاق۔۔۔الخ،۱۲‏ / ۱۹۴، تحت الحدیث: ۶۴۱۲۔
3 -    مرآۃ المناجیح،۷ / ۲۔