اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا قرب عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :97
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دو عظیم نِعْمَتِیں
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ، اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ تندرستی اورفراغت دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اُن کی وجہ سے خسارہ اٹھاتے ہیں یا ان سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ ‘‘
نقصان اُٹھانے والا اِنسان:
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ نعمت عمدہ حالت کو کہتے ہیں ۔جبکہ امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ نعمت ایسی منفعت کو کہتے ہیں جو بطریقِ احسان کسی غیر کو دی جائے۔اور حدیث پاک میں جو خسارہ فرمایا گیا اس سے مراد بیع یعنی خرید وفروخت میں خسارہ ہے۔ یعنی صحت و فراغت یہ دو ایسے کام ہیں کہ اِنہیں اگر اُن کاموں میں استعمال نہ کیا جائے جہاں کرنا چاہیے تھا تو یہ دونوں نعمتیں پانے والا شخص نقصان اٹھائے گا یعنی وہ اِن دونوں کو نقصان کے ساتھ فروخت کرے گا۔کیونکہ جو شخص تندرستی وفراغت کی حالت میں عبادتِ الٰہی نہ بجا لائے تووہ بیماری و مشغولیت میں بدرجہ اَولیٰ عبادت نہ کرسکے گالہٰذا وہ بےعملی کے سبب نقصان و دھوکے میں رہ جائے گا۔اسی طرح بعض اوقات انسان صحت مند ہوتا ہے لیکن اَسبابِ معاش یعنی کاروبار وغیرہ میں مشغولیت کی وجہ سےعبادت کے لیے فارغ نہیں ہوتا اور کبھی اس کے بر عکس (یعنی فارغ تو ہوتا ہے لیکن مرض میں مبتلا ہونے کی
________________________________
1 - بخاری، کتاب الرقاق ، باب ماجاء فی الرقاق ۔۔۔الخ،۴ / ۲۲۲، حدیث: ۶۴۱۲ ۔