ہوں ۔ ‘‘ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یہ کلام تمثیلی (یعنی مثال کے) طور پر ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قُربِ الٰہی حاصل کروتو رَبّ تعالٰی اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا لہٰذا عمل کیے جاؤ، تھوڑا بہت نہ دیکھو۔ ‘‘ ’’ میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ کلام بطور ِمثال سمجھانے کے لیےہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ہے، اگر تم ایسے معمولی اَعمال کروجن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامنِ رحمت میں لے لیں گے۔اگر رَبّ تَعَالٰی سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے۔ ‘‘ (1)
جے میں ویکھا عملاں ولے کجھ نئیں میرے پلے
جے میں ویکھاں رحمت ربّ دی بلے بلے بلے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
”مُحَمَّد“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) بندہ جتنی زیادہ ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے، اس کی توفیق، رحمت اور اعانتِ الٰہی اتنی ہی زیادہ اس بندے کے قریب ہوجاتی ہے۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی رحمت سے قلیل عبادت پر کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔
(3) ہمیں اپنے اعمال میں اخلاص کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے چاہے وہ عمل کم ہو یا زیادہ۔
(4) ربّتعالٰی کا قرب بندے کی کوشش سے نہیں بلکہ ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رحمتِ کاملہ سے ہے۔
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح، ۳ / ۳۰۷۔