جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو گز قریب ہوجاتا ہوں اورجب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ ‘‘
حدیث کے ظاہری معنی کی وضاحت:
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث کا ظاہری معنی لینا محال ہے (کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّچلنے یا دوڑنے سے پاک ہے) ۔حدیث کامطلب یہ ہے کہ جوشخص عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی توفیق، رحمت اور اعانت اس کے قریب کردیتا ہوں ۔بندہ جتنی زیادہ عبادت کرتا ہے میں اتنا ہی زیادہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اوراس پراپنی رحمت نچھاورکرتا ہوں ۔ ‘‘ (1)
قلیل عبادت پرکثیر ثواب:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :ھَرْوَلَۃٌ کا معنی ہے ’’ تیز تیز چلنا۔ ‘‘ اس طرح کے الفاظ کا حقیقی معنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے استعمال کرنا ناجائز ہےکیونکہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے محال ہے اور اس پر بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے جوقلیل عبادت کے ذریعے سے بھی میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اسےقلیل عبادت کے بدلے کثیر ثواب عطا فرماتا ہوں اور جب وہ عبادت میں اضافہ کرتا ہے تو میں ثواب میں اُس سے زیادہ اِضافہ کر دیتا ہوں اور اگر وہ اپنی سہولیات کو پیش نظر رکھ کر اِطاعت بجا لائے تو میں اُس کو اُس عبادت کا ثواب جلد عطا کرتا ہوں ۔اس حدیث کامقصود یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے جو ثواب ملتا ہے وہ تعداداورکیفیت کے اعتبار سے بندے کے عمل سے دو۲گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ‘‘ (2)
یہ کلام تمثیلی یعنی بطورِ مثال کےہے:
حدیث پاک میں ہے: ’’ اور جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو گز قریب ہوجاتا
________________________________
1 - شرح مسلم للنووی،کتاب الذکر والدعاء الخ، باب الحث علی ذکر اللہ تعالی،۹ / ۳، الجزء السابع عشر ۔
2 - عمدۃ القاری، کتاب التوحید،باب ذکر النبی وروایتہ۔۔۔ الخ، ۱۶ / ۷۱۹، تحت الحدیث: ۷۵۳۶۔