Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
16 - 662
 کی طرف بڑھنے والا)  یہ وہ ہے جس کی توجہ کبھی کبھی اَسباب کی طرف ہوجاتی ہے مگر یہ علمی طریقوں اور ذوقِ حالیہ کی بنا پر اپنی اِس کیفیت کو دُور کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ واصِل کا مرتبہ پا لیتا ہے۔حضرت سَیِّدُنَا ابو القاسم عبدالکریم ہُوَازِن قُشَیْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ توکل کا مقام دِل ہےاور ظاہری اَفعال توکل کے خلاف نہیں جبکہ بندہ اِس بات پر پختہ یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حکم سے ہوتا ہے۔‘‘  (1) 
کسب ِمَعَاش توکل کے خلاف نہیں :
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ کسبِ معاش  (روزی کمانے)  کی مشروعیت پر کثیر دلائل ہیں جن میں سے حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ مرفوع حدیث بھی ہے کہ: ’’  اَفْضَلُ مَااَکَلَ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہٖ یعنی سب سے زیادہ فضیلت والا کھانا وہ ہے جسے بندہ اپنی کمائی سے کھائے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا  داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی اپنے کسب سے ہی کھاتے تھے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشادفرمایا:  (وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ (۸۰) )   (پ۱۷،  الانبیاء:۸۰) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور  ہم نے اُسے تمہارا ایک پہناوا بنانا سکھایا کہ تمہیں تمہاری آنچ سے  (زخمی ہونے سے)  بچائے۔ ‘‘  اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:  ( خُذُوْا حِذْرَكُمْ)   (پ۵،  النساء: ۱۰۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اور اپنی پناہ ‏لیے رہو۔ ‘‘  بلکہ بہت مرتبہ تو کسبِ معاش  ( روزی کمانا)  واجب بھی ہوتا ہے مثلاً جو شخص کمانے پر قادر ہو اور اُس کے گھر والے نفقے کے محتاج ہو ں تو اُس پر واجب ہے کہ کمائے ،  نہیں کمائے گا تو گنہگار ہوگا ۔  ‘‘  (2) 
مُتَوَکِّلکی علامات:
حضرتِ سَیِّدُنا سَہل بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ’’ متوکل کی تین علامتیں ہیں : (۱) کسی سے سوال نہیں کرتا (۲)  سائل کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتا  (۳)  اپنے پاس کچھ بچا کر نہیں رکھتا ۔ ‘‘  (3) 



________________________________
1 -   فتح الباری،کتاب الرقاق، باب یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب،۱۲‏ /  ۳۵۰ ، تحت الحدیث: ۶۵۴۱ ملخصا۔
2 -   فتح الباری،کتاب الرقاق، باب یدخل الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب،۱۲‏ /  ۳۵۰، تحت الحدیث: ۶۵۴۱ ملخصا۔
3 -   رسالۃ قشیریۃ،باب التوکل، ص۲۰۰۔