Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
159 - 662
 خاتمے اور دنیا وآخرت میں کامیاب نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
(1)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ولیوں سے ان کے ولی ہونے کی وجہ سے عداوت یعنی دشمنی رکھنے کو علمائے کرام نے کفر لکھا ہے۔
(2)	فرائض کی ادائیگی ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کو بہت محبوب ہے،  جبکہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی ادائیگی بھی ربّعَزَّ  وَجَلَّ کے قرب کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔
(3)	فرائض کی ادائیگی کے بغیر نوافل قبول نہیں ہوتے بلکہ مُعَلَّق رہتے ہیں ،  لہذا فرائض کی ادائیگی پہلے کرنا بہت ضروری ہے۔
(4)	جو نوافل فرائض کی ادائیگی کے بعد اداکیے جائیں وہی قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
(5)	جس بندے سے ربّعَزَّ  وَجَلَّ محبت فرماتا ہے اسے خلافِ شرع کاموں سے محفوظ فرمادیتا ہے۔
اللہ  عَزَّ  وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی پابند بنائے اور ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرمائے اور اپنے اولیاء کی دشمنی اور بغض سے محفوظ فرمائے،  ہمیں فقط ان کی محبت نصیب فرمائے۔			 آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر 96:	         
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بندوں   سے محبت
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْوِیہِ عَنْ رَبِّہِ قَالَ:اِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ اِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا،  وَاِذَا تَقَرَّبَ مِنِّی ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا، وَاِذَا اَتَانِیْ مَشْیًا اَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً. (1) 
	ترجمہ :حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے روایت کرتے ہیں کہ ربّ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں اور



________________________________
1 -   بخاری، کتاب التوحید، باب ذکر النبی وروایتہ عن ربہ ،۴‏ / ۵۹۰، حدیث: ۷۵۳۶۔