چلے گئے میں نے اس روٹی کا ایک ہی لقمہ کھایا تو سَیر ہو گیا۔ میں نے وہ روٹی تین دن اپنے پاس رکھی یہاں تک کہ میرے رُفقاء آگئے۔ جب میں نے عرفہ میں وقوف کیا تو حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کو ایک چٹان کے قریب دعامیں مشغول کھڑے ہوئے دیکھا۔میں نے سلام عرض کیا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فارغ ہوکر سلام کا جواب دیا اورپوچھا: کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ؟ میں نے عرض کی:دعا فرما دیں ۔ انہوں نے دعا کی، پھر ہم پہاڑسے اُتر آئے۔ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مجھے نظر نہ آئے۔ میں حج ادا کرکے بصرہ واپس آگیا اور گھر میں رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کے پیچھے مسجد میں صبح کی نماز پڑھی۔ جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے سلام اور مصافحہ کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مجھ سے مصافحہ کیا اور میرے ہاتھ کو دَبایا۔میں سمجھ گیا کہ راز کو ظاہر نہیں کرنا۔ مسجد کا مؤذن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی بہت خدمت کیا کرتا تھا، میں نے اس سے ایّامِ حج میں مسجدسے حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد کی عدم موجودگی کے متعلق پوچھا تو اس نے قسم کھائی کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے پانچوں نمازیں اسی مسجد میں ادا فرمائیں ہیں تو میں نے جان لیاکہ یہ بزرگ، انسانوں کے سردار اَبدال (اولیاء اللہکےا یک اعلیٰ گروہ) میں سے ہیں ۔ ‘‘ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
’’ ولی اللہ ‘‘ کے 7 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنا دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی رکھنے والا دراصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا دشمن ہے، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہےاور جس کے خلاف خود ربّعَزَّ وَجَلَّ اعلانِ جنگ فرمادےیہ اس کے بُرے
________________________________
1 - الروض الفائق ، المجلس الثانی عشر، ص۷۹۔