میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک کی شرح سے معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اولیائے کرام کو اتنی قوت و طاقت عطا فرماتا ہے کہ وہ بہت دُور و نزدیک کی بات سن لیتے ہیں اور دُور دَراز کی چیزوں کو بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور سے دیکھ لیتے ہیں اور طویل فاصلے لمحوں میں طے کرلیتے ہیں ۔چنانچہ،
دِنوں کا سفر لمحوں میں طے کرلیا:
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمٰن بن جعفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں بصرہ میں پانچوں نمازیں مقامی مسجد میں پڑھا کرتا تھا جو ”مَسْجِدُ الخَشَّابِیْن یعنی لکڑیاں بیچنے والوں کی مسجد“ کے نام سے معروف تھی اور اس کے امام مغرِب سے تعلق رکھتے تھے، ان کو ابوسعید کہا جاتا تھا، یہ نیکی کے کاموں میں مشہور تھے اور مسجد میں نمازِ فجر کے بعد بیان کیا کرتے تھے۔ ایک سال میں حج کے لیے روانہ ہوا، وہ شدید گرمی کاسال تھا۔ عام طور پررات کو میں اپنے رفقاء سے آگے نکل جاتا اور سو جاتا پھر میرے دوست مجھے آملتے، ایک رات اسی طرح میں راستے سے ہَٹ کر سویا ہوا تھا کہ قافلہ آگے نکل گیا اور میرے دوستوں کو میری خبر تک نہ ہوئی، میں سویا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا۔جب بیدار ہواتو میں نہیں جانتا تھاکہ یہ کون ساراستہ ہے، میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے عرض کی:اے میرے مولیٰ عزَّوَجَلَّ! تو مجھے کہاں لے آیا اور اپنے گھر سے بھی دُور کردیا، بہرحال میں چلتا رہا یہاں تک کہ تھک گیا، گرمی بھی شدید تھی ، میں زندگی سے مایوس ہو گیا اورریت کے ٹیلے پر موت کا انتظار کرنے لگا۔اچانک میں نے دیکھا کہ ایک شخص مجھے پکار رہاہے، میں کھڑا ہوا، دیکھا تو وہ ہمارے امام مسجد حضرتِ سیِّدُناشیخ ابو سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْدتھے۔ انہوں نے پوچھا: کیاآپ بھوکے ہیں ؟ میں نے عرض کی:جی ہاں ۔ توانہوں نے مجھے ایک گرما گرم روٹی دی ، میں نے کھائی تو میری سانس بحال ہوگئی، مجھے پیاس لگی تو انہوں نے مجھے ایک چمڑے کا تھیلا دیاجس میں شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈاپانی تھا ۔ میں نے پیا اور چہرے کو بھی دھویا تومیری تازگی اورراحت لوٹ آئی۔
پھر انہوں نے مجھ سے کہا: میرے پیچھے چلو۔ میں تھوڑی دیر تک آپ کے پیچھے چلا تو مکہ مکرمہ جا پہنچا۔ انہوں نے کہا:یہیں ٹھہر جاؤ، تین دن بعد تمہارے دوست یہاں پہنچ جائیں گے۔پھر مجھے ایک روٹی دے کر