٭ …… ثانی: میں اس کو اس کے تمام مقاصد عطا فرماتا ہوں گویا وہ اپنے مقاصد کو اپنے جوارِح (یعنی اعضاء) سے حاصل کرلیتا ہے۔ یہ توجیہ حدیث کے آخر ی حصے ”اِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ“ (اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور ضرور اسے دوں گا) کے مطابق ہے۔
٭ ……ثالث:میں اس کی مدد فرماتا ہوں جیسے اس کے اعضاء اس کے کام میں لگے رہتے ہیں ۔
٭ …… رابع: اس حدیث میں مصدر (سمع و بصروغیرہ) بمعنی مفعول ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ میں اس کا مسموع ہوجاتا ہوں کہ وہ صرف میرا ذکر سنتا ہے اورمیری یاد سے لذت پاتا ہے اور مجھ سے مناجات میں اُنسیت پاتا ہے اور ہاتھ اُنہی چیزوں کی طرف بڑھاتا ہے جس میں میری رضا ہے اور وہیں جاتا ہے جہاں جانا مجھے پسند ہے۔
٭ ……خامس: علمائےمُعْتَمِدِیْن نے اس بات پر اتفاق کیاکہ یہ کنایہ ہے بندے کی مدد اور اعانت کرنے سے۔تمثیلاً (بطور مثال) فرمایا کہ جیسے کوئی دشمن کسی پر حملہ کرے تو بے اختیار اس کے جوارِح (یعنی اعضاء) اس کی حمایت کرتے ہیں اسی طرح بلاتمثیل میں اپنے بندے کی مدد فرماتاہوں اگرچہ وہ درخواست نہ کرے ۔ اس میں بعض معنی بعض کی طرف راجع ہیں لیکن بنظرِ دقیق کچھ فرق بھی ہے۔
٭ …… سادس : اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے سورۂ کہف کی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ اللہ تعالٰیاس کی قوت سماعت اتنی قوی کردیتا ہے کہ وہ بلند و پست، نزدیک و دور کی آواز یں سنتا ہےاور اس کی آنکھ میں اتنی نورانیت پیدا فرمادیتا ہے کہ قریب و بعید کی سب چیزیں دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ میں اتنی قوت پیدا فرمادیتا ہے کہ نرم اور سخت، ہمواراور پہاڑ اور دُور و نزدیک میں تصرف کرتا ہے۔
٭…… سابع:مراد یہ ہے کہ جس قدر جلد اس کا کان سنتا ہے اور اس کی آنکھ دیکھتی ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں چلتا ہے اس سے بھی جلد میں اپنے ایسے بندوں کی حوائج کو پورا کرتا ہوں ۔
٭…… ثامن: بعض متاخر صوفیہ نے فرمایا کہ یہ تعبیر ہے مقام فنا اور محو سے جو سلوک کی انتہائی غایت ہے۔ (1)
________________________________
1 - نزہۃ القاری، ۵ / ۶۷۰ملخصًا۔