امام خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’ اِس حدیث میں سمجھانے کے لیے اِس طرح مثال دی گئی ہے اور معنی یہ ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے نیک بندے کو اِن چار اعضاء ( یعنی ہاتھ، زبان، کان اور پاؤں ) سے ہونے والے نیک اُمور کی پہچان کرا دیتا ہے۔پھر اِن نیک اَعمال کی محبت اِس کے دل میں ڈال کر اِنہیں اِس پرآسان کر دیتا ہےاوراِن اعضاءکو اپنی ناراضی والے کاموں مثلاً بُری باتیں سننا، ممنوع اشیاء کی طرف نظر کرنا ، حرام اشیاء کو پکڑنا، ناجائز اُمور کی طرف چلنا وغیرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔یا پھر اِس پراِس طرح آسانی فرماتا ہے کہ اِس کی دعائیں اور حاجتیں جلدپوری فرماتا ہے۔ ‘‘ (1)
ایک اِشکال اور اُس کا جواب:
حدیث پاک میں فرمانِ باری تعالی ہے کہ : ’’ میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کے پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ۔وغیرہ جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو جسم سے پاک ہے۔ ‘‘ اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فقیہ اعظم، شارح حدیث حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث متشابہات میں سے ہے۔ اس پر اہل سنت کا اتفاق ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجسم اور جسمانیات سے مُنَزَّہ (پاک) ہے۔ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ اس کا تحقیقی جواب وہی ہے کہ حقیقی مراد کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانے یا ا س کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانیں ۔ یہ ارشادِ خدا ہے اور حق ہے اور یہی ہمارا ایمان۔ تاہم علماء نے اس کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں :
٭ ……اَوّل یہ ہے کہ (میرا ) بندہ بالکلیہ میرے ساتھ مشغول ہے تو وہ اپنے کان سے صرف اُنہی باتوں کو سنتا ہے جو مجھے پسند ہیں اور اپنی آنکھ سے صرف اُنہی چیزوں کو دیکھتا ہے جن کا دیکھنا مجھے پسند ہے۔ یوں ہی اپنے ہاتھ میں صرف اُنہی چیزوں کو لیتا ہےجن کی میں نے اجازت دی ہے اور وہیں جاتا ہے جہاں جانے کو میں نے اس کے لیے رَوا (یعنی جائز) رکھا ہے۔ اور زبان سے وہی نکالتا ہے جو حق ہے اور وہی سوچتا ہے جو میری مرضی ہوتی ہے ۔
________________________________
1 - عمدۃ القاری، کتاب الرقاق ، باب التواضع، ۵ ۱ / ۵۷۷، تحت الحدیث: ۶۵۰۲۔