Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
154 - 662
بندے کی یہ حالت ہو جائے تو اسے اس کی  تمام حرکات  وسَکَنَا ت اور افعال پر  ثواب دیا جاتا ہے۔ ‘‘  (1) 
سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلا درجہ:
	اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا بندے سے محبت کرنا یہ ہے  کہ بندہ  ہمیشہ مختلف عبادات کے ذریعےاس کاقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور مختلف مجاہدات کے ذریعے ایک درجے سے دوسرے درجے کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے محبت کرنے لگتا ہے،   پھروہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے جلوؤں میں اس طرح گُم  ہوجاتاہے کہ جس طرف دیکھتا ہے اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ہی جلوہ نظر آتاہے۔یہ سالکین کا آخری اور واصلین کا پہلادرجہ ہے۔ ‘‘  (2) 
ربّ عَزَّوَجَلَّ کا کان،  آنکھ،   ہاتھ اور پاؤں ہونا:
حدیث  پاک میں فرمایا گیا  ’’ میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس  سے وہ سنتا ہے۔۔۔الخ ‘‘ علمائے کرام اور شارحین نے اس کے کئی معنی بیان فرمائے ہیں ۔شارح حدیث علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کے دو معنی بیان فرمائے ہیں : ’’  (۱) پہلا معنی یہ ہے کہ میں اس کے کان  آنکھ اورہاتھ اور پاؤں کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھتا ہوں ۔ (۲) دوسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ  اپنے ہاتھ ، کان یا پاؤں سے  کوئی عمل کرتا ہے تو میری یاد اس کے دل  میں بسی ہوتی ہے جب وہ میری طرف متوجہ ہوتا ہے تو غیر کے لیے کوئی کام نہیں کرتا۔ ‘‘  (3)   (اس کے  سب کام میری رضا کے لیے  ہوتے  ہیں ۔) 
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث اپنے مجازی معنی پر محمول ہے  اور اس سے مراد یہ  ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے نیک بندے کی  اِس طرح حفاظت فرماتا ہےجیسے بندہ اپنے اعضاء کی خودحفاظت  کر تااورانہیں ہلاکت سے بچاتا ہے۔ ‘‘ 



________________________________
1 -   الاربعین النوویۃ، ص۱۲۹۔
2 -   شرح الطیبی، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ عَزوجل،۴‏ / ۳۹۶، تحت الحدیث: ۲۲۶۶۔
3 -   الاربعین النوویۃ، ص۱۳۰۔