کرنے والوں اور فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل بھی ادا کرنے والوں کی مثال ان دو غلاموں کی طرح ہے کہ جنہیں ان کا مالک پھل لانے کا حکم دے تو ان میں سے ایک پھلوں کو ٹوکری میں رکھ کر پھولوں اور خوشبو وغیرہ سے سجا کر بڑے سلیقے سے اپنے مالک کی خدمت میں پیش کرے۔جبکہ دوسرا جھولی میں پھل لائے اور اپنے مالک کے سامنے زمین پر ڈال دے۔تو ان دونوں ہی غلاموں نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی لیکن اہتمام سے حکم کی تعمیل کرنے والادوسرے کے مقابلے میں مالک کو زیادہ محبوب ہوگا۔ اسی طرح جو بندہ فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرتا رہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے۔ ‘‘ (1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنے بندے سے محبت کا انعام:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے بندے سے محبت فرماتا ہے تو اسے اپنے ذکر اور فرمانبرداری میں مشغول کرکے شیطان کے شر سے محفوظ فرمادیتا ہے، اس کے سب اعضاء کو نیکیوں میں لگا دیتا ہے ۔ قرآنِ پاک کی سماعت اور ذکرِ الٰہی کو اس کا محبوب ترین مشغلہ بنا دیتا ہے۔ گانے باجے اور دیگر لَغْوِیَات کو اس کے نزدیک بہت نا پسندیدہ کر دیتا ہے، پھروہ جاہلوں سے اعراض اور فحش کلامی سے اجتناب کرتا ہے، اپنی نظروں کو حرام اشیاء سے بچاتا ہے، پس اس کا دیکھنا غور وفکر و عبرت پر مبنی ہوتا ہے، وہ مخلوق کودیکھ کر خالق کی قدرت پر دلیل پکڑتا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : ’’ میں کسی بھی چیز کو دیکھنے سے پہلے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ مخلوق کو دیکھ کر خالق کی قدرت کی طرف متوجہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کو دیکھ کر ان کے خالق کی تسبیح و تقدیس بیان کرے اور اس کی عظمت کا اقرار کرے، اپنے ہاتھ، پاؤں صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کے مطابق استعمال کرے، کسی فضول کام کی طرف نہ چلے، اپنے ہاتھوں سے کوئی بے کار کام نہ کرے، اس کی حرکات وسَکَنَات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہوں ، جب
________________________________
1 - الاربعین النوویۃ، ص۱۲۹۔