فرمان ہے۔اس میں آمر (یعنی حکم دینے والے) کی عظمت ظاہر ہے، اس میں عبودیت کا تذلل بھی ہے۔نیز فرائض اصل ہیں اور نوافل فرع ۔حتی کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ جو (شخص) فرائض ترک کیے (ہوئے) ہواور نوافل ادا کرے تو اس کے سارے نوافل زمین وآسمان کے درمیان مُعَلَّق رہیں گے مقبول نہ ہوں گے۔ اسی لیے علماء نے فرمایا :جس کے فرائض قضا ہوگئے ہوں وہ بجائے نوافل کے فرائض کی قضاکرے۔ ‘‘ (1)
کن نوافل سے قرب ِ الٰہی حاصل ہو تا ہے؟
حدیثِ مذکور سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوافل کے ذریعے بندہ اپنے ربّ کا مُقَرَّب ومحبوب بن جاتا ہے ۔ تو یہاں مطلقاً نوافل مراد نہیں بلکہ وہ نوافل مرادہیں جو فرائض کی ادائیگی کے بعد اضافی طور پر ادا کیے جائیں ۔فرائض کی ادائیگی کے بغیرمحض نوافل کی وجہ سے نہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب مل سکتا ہے نہ وِلایت ۔
فقیہ اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینوافل کے ذریعے قرب حاصل کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد یہ ہے کہ فرائض کی کَمَا حَقُّہُ ادائیگی کے بعد نوافل کی ادائیگی کرتا ہے۔یہ مطلب نہیں کہ فرائض چھوڑے اور نوافل ادا کرے پھر بھی محبوب ہوگا۔ اس لیے کہ جو فرائض چھوڑے گا فاسق ہوگا وہ محبوب کیسے ہوگا؟ نوافل چونکہ بندہ اپنی طرف سے بخوشی ادا کرتا ہے اس لیے نوافل ادا کرنے والا محبت کا مستحق ہوا، اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک شخص خدمت پر نوکر ہے جس کی تنخواہ لیتا ہےاورمتعلقہ خدمت کے سوا کچھ انجام نہیں دیتا وہ مشاہرے کا ضرورمستحق ہے اور وہ ایک اچھا نوکر بھی کہلائے گا مگر دوسرا نوکرمتعلقہ خدمات کے علاوہ مزید اپنی خوشی سے دوسری خدمات بھی انجام دیتا ہے یقیناً مالک اس دوسرے نوکر سے پہلے کی بہ نسبت زیادہ محبت کرے گا۔ ‘‘ (2)
فرائض وواجبات کے ساتھ نوافل ادا کرنے والے کی مثال:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ صرف فرائض وواجبات ادا
________________________________
1 - نزہۃ القاری، ۵ / ۶۶۹۔
2 - نزہۃ القاری، ۵ / ۶۶۹۔