میں ) ذکر ہےاور ایک ہے کسی ولی سے اختلافِ رائے یہ نہ کفر ہے اور نہ ہی فسق۔ ‘‘ (1)
شارح حدیث حضرت علامہ غلام رسول رَضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی حدیث پاک کے اس حصے: ’’ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یعنی جو کوئی ولی سے عداوت (دُشمنی) اس لیے کرتا ہے کہ وہ میرا ولی ہے، میں اس سے جنگ کرتا ہوں اور اس کو ہلاک کرتا ہوں اور اس پر ایسے لوگ مسلط کرتا ہوں جو اس کو اذیت پہنچاتے رہیں ۔اُس شخص کی یہ رسوائی دنیا میں ہےآخرت کی خرابی اس کے علاوہ ہے۔اللہ تعالٰیمسلمانوں کو ایسی ذلت و رُسوائی سے پناہ دے۔ ‘‘ (2)
ولی سے عدا وت کا وبال:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیائمہ کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامکے حوالے سے بیان فرماتے ہیں : ’’ دو قسم کے گناہ گاروں سے ربّ عَزَّوَجَلَّنے اِعلانِ جنگ کیا ہے: (۱) سُود خور (۲) اَولیاء کا دشمن ۔یہ دونوں (یعنی سود خوری اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ولیوں سے دشمنی) بہت بڑے گناہ ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندے سے جنگ کرنابندے کے بُرے خاتمے پر دلالت کرتاہے اورجس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِعلان جنگ کر دےوہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ (3)
فرائض اور نوافل کی ادائیگی میں فرق:
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث پاک کی شرح کے تحت فرماتے ہیں : ’’ فرائض کی پابندی اور ادائیگی بہ نسبت نوافل کے افضل ہےاور یہ بالکل ظاہر ہے کہ فرائض اداکرنے میں ثواب کی امید ہے اور ترک میں عذاب کا استحقاق اور نوافل کی ادائیگی میں ثواب کی امید اور ترک پر کوئی گناہ نہیں ۔نیز فرائض مَامُوْربِہٖ ہیں (یعنی ان کے کرنے کا حکم دیا گیاہے) ان کا کرنے والا تابع
________________________________
1 - مرآۃ المناجیح،٣ / ۳۰۸۔
2 - تفہیم البخاری،۹ / ۷۹۶۔
3 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ ،۵ / ۴۱، تحت الحدیث: ۲۲۶۶ مفھوما۔