Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
150 - 662
ولی بھی اس سے عداوت یعنی دشمنی رکھے تو اس کے خلاف ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کا اعلان جنگ ہے۔ ‘‘ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے ولی کی شان کسی سے دشمنی رکھنا نہیں بلکہ عداوت یعنی دشمنی سے اجتناب کرنا اور بُردباری سے کام لینا ہے۔ ‘‘  بعض علماء نے اس  کا جواب یہ دیا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی ولی کی طرف سے جو عداوت یعنی دشمنی ہوتی ہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّہی کے لیے ہوتی ہے جبکہ دوسرے شخص کی طرف سے جو عداوت یعنی دشمنی ہوتی ہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لیے نہیں ۔ ‘‘  ( بلکہ اس کی اپنی ذات کے لیے ہوتی ہے،  لہٰذا دونوں طرف کی دشمنی میں فرق ہے۔)  علامہ بدر الدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :  ’’ اس سوال کے جواب میں اتنے تکلف کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ باب مفاعلہ میں فعل عموماً جانبین سے ہوتا ہے لیکن کبھی ایک جانب سے فعل کے واقع ہونے کے لے بھی آتا ہےجیسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ   (پ۴، آل عمران: ۱۳۳) 
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش کی طرف۔
  اس آیت میں سَارِعُوْا باب مفاعلہ سے ہے لیکن یہاں سُرعت (دوڑنے)  کا فعل جانبین (ربّ اور بندوں کی طرف)  سے نہیں بلکہ فقط بندوں کی طرف سے ہے معنی یہ ہے کہ تم دوڑو۔ ‘‘ 
	 (۲)  دوسرا یہ کہ حدیث پاک میں ہے: ’’ اٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ ‘‘ یعنی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اور جنگ جانبین یعنی دونوں طرف سے ہوتی ہے جبکہ مخلوق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قید میں ہے تو وہ اس سے جنگ کیسے کرسکتی ہے؟  تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں جنگ سے اس کا لازم معنی یعنی جنگی معاملہ مراد ہے کہ میں اس کے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو جنگی  دشمن کرتا ہے۔ (1)  
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی ہونے کی وجہ سے عداوت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ وَلِیُ اللہسے اس ‏لیے عداوت وعِناد (دشمنی وبغض رکھنا)  کہ  وَلِیُ اللہہے یہ تو کفر ہے۔اسی کا یہاں  (حدیث پاک 



________________________________
1 -   عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۱۵‏ / ۵۷۶، تحت الحدیث: ۶۵۰۲۔