Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
15 - 662
یقین اور توکل کی تعریف:
علامہ سیدشریف جُرجَانی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’ یقین لغت میں اُس علم کو کہتے ہیں جس میں کوئی شک نہ ہو۔ اور اِصْطِلَاح میں کسی شے کے بارے میں یہ پختہ اِعتقاد رکھنا کہ وہ اِس طرح ہے،  اِس کے علاوہ کسی اور طرح نہیں ہوسکتی اور حقیقت میں بھی وہ شے اُسی طرح ہو تو ایسا اِعتقاد یقین کہلاتا ہے۔ ‘‘  (1) 
صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیتوکل کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ توکل کے معنی ہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اِعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کر دینا۔ مقصود یہ ہے کہ بندے کا اِعتماد تمام کاموں میں اللہ پر ہونا چاہیے۔ ‘‘  (2) 
توکل کیسے حاصل ہو؟ 
فتح الباری میں ہےکہ جمہور علمائے کرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامنے فرمایا:  ’’ توکل اِس طرح حاصل ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے کیے ہوئے وعدے پر کامل بھروسہ ہو اور اِس بات پر کامل یقین ہو کہ جو فیصلہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے کیا ہوا ہے،  وہ ضرور ہوگا ۔ ہاں بقدر ِحاجت رزق کی تلاش میں سنت کی پیروی نہ چھوڑے،  دشمن سے بچاؤ کے ‏لیے اَسلحے کی تیاری اورمال و اَسباب کی حفاظت کے ‏لیے دروازے بند کرنانہ چھوڑے۔ اِسی طرح دیگربچاؤ کے طریقے،  تمام اِحتیاطی تدابیر اِختیار کرے،  مگر یہ ضروری ہے کہ اِن اَسباب ہی پرمطمئن نہ ہوجائے بلکہ یہ عقیدہ ہوکہ یہ اَسباب اَزْخُودنہ کوئی فائدہ پہنچاسکتے ہیں ،  نہ کسی قسم کا کوئی نقصان دُور کر سکتے ہیں بلکہ سبب و مُسَبَّب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ہیں اور سب اُمور اُسی کے اِرادے پر مَوْقُوف ہیں ۔ ( یعنی وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے ۔)  ہاں جب بندے کا جُھکاؤ اَسباب کی طرف ہو جائے تو اُس کے توکل میں کمی آجاتی ہے ۔ 
اَسلاف کے مختلف اقوال کی رُو سے مُتَوَکِّل دوطرح کا ہوتاہے : (۱)  واصِل  (یعنی توکل کی منزل پا لینے والا) یہ وہ ہے جو اَسباب کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں کرتا اگرچہ اَسباب اختیار کرتا ہو ۔  (۲) سالِک (یعنی توکل


________________________________
1 -   التعریفات، ص۱۷۹۔
2 -   خزائن العرفان، پ۴،آلِ عمران،تحت الآیۃ: ۱۵۹۔