Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
149 - 662
ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے  مانگے تو میں  اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ  مجھ سے  پناہ  چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا۔ ‘‘ 
ولی کون ہے؟ 
ولی کی کئی تعریفات بیان کی گئی ہیں ۔علامہ سَعْدُ الدین تَفْتَازَانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ولی وہ  ہے جوممکنہ حد تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اوراس کی صفات  کا عارف ہو،   ہمیشہ اُس کی عبادت کرتا ہواور ہرقسم کے گناہوں اور ( مباح اشیاء ) کی لذات اورشہوات میں مشغولیت سے بچتا ہو۔ ‘‘  (1)  
فقیہ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ ولی وہ مؤمن  عَارِفْ بِاللّٰہ ہے جو طاعات کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہے اور مُحَرَّمات سے بچتا رہے وہ بھی اللہ کی رضا کے لیے نہ کہ عزت وشہرت حاصل کرنے کے لیے اور دکھاوے کے لیے ،  اس لیے جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہوسکتا اگرچہ ہوا میں اڑے ۔جوگی جے پال حالت کفر میں قادر تھے کہ اپنے حریف پر پتھر برسائیں ،  آگ برسائیں ،  خود ہوا میں اڑیں ،  کیا اس وقت وہ ولی تھے؟   (ہرگز نہیں ،  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا )  ارشاد ہے: ( اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ )  (پ۹،  الانفال: ۳۴)  اللہ کے ولی وہ لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘  (2) 
دشمنی اور جنگ سے متعلق دو اہم مدنی پھول:
علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے یہاں دو اہم اور علمی مدنی پھول بیان فرمائے ہیں :   (۱) پہلا یہ کہ حدیث پاک میں ہے: ” مَنْ عَادٰی لِی وَلِیًّایعنی جس نے میرے  کسی ولی سے دشمنی کی۔ ‘‘  عَادٰی باب مفاعلہ سے ہے اور باب مفاعلہ کا خاصہ ہے کہ اس میں فعل جانِبَیْن یعنی دونوں طرف سے ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ  ’’ کوئی شخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ولی سے عداوت یعنی دشمنی رکھے اور دوسری طرف سے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا



________________________________
1 -   شرح العقائد ، کرامات الاولیاء حق،۳۱۳۔
2 -   نزہۃ القاری، ۵‏ / ۶۶۹۔