ہیں : ’’ نفس کو عبادت کے علاوہ دیگر مشاغل سے روکنے کا نام مُجَاھَدَہہے۔ ‘‘ تصوف کے بہت بڑے امام حضرت علامہ ابوالقاسم عبد الکریم ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مجاہدۂ نفس کی اصل یہ ہے کہ نفس کا مانوس چیزوں سے رُکنا اور اسے اس کی خواہشات کے خلاف پر آمادہ کرنا ۔ نفس سے جہاد کرنے کے چار مراتب ہیں : (۱) نفس کو حصولِ علمِ دین پرابھارنا (۲) عمل پرابھارنا (۳) دوسروں کو علم سکھانے پر اُبھارنا۔ (۴) اورلوگوں کوتوحید کی طرف بلا نے اور منکرین ِاِسلام و منکرین اِنعاماتِ اِلٰہیَّہ سے جہاد پر اُبھارنا۔ اور مُجَاھَدَہکی اصل یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کے جمیع اَحوال سے باخبر رہے۔ ورنہ جیسے ہی وہ نفس کی خبر گیری سے غافل ہوگا شیطان اور نفس اُسے بہکا کر ناجائز اُمور میں مبتلا کر دیں گے۔ (1)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر :95
اللہ کے ولی کا دُشمن اللہ کا دُشمن ہے
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ”مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْاٰذَنْتُہُ بِالْحَرْبِ، وَمَاتَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ، وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہُ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہُ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِی یَسْمَعُ بِہِ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہِ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَ لَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہُ. (2)
ترجمہ :حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولوں کے سالار شہنشاہ ابرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ
________________________________
1 - فتح الباری، کتاب الرقاق ، باب من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ عزوجل، ۱۲ / ۲۸۸، تحت الحدیث: ۶۵۰۰ملتقطا۔
2 - بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ / ۲۴۸، حدیث: ۶۵۰۲۔