Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
147 - 662
 بہتر ہوگا جو دنیا میں تم نے کیے۔ ‘‘  (1) 
 (6) صدقہ وخیرات کی ترغیب
اللہ عَزَّ  وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ (۲۷۳)   (پ:٣، البقرۃ:۲۷۳)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور تم جو خیرات کرو   اللہ اسے جانتا ہے۔
عَلَّامَہ عَبْدُ الرَّحْمٰن جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے فرمایا: ’’  جو کچھ تم  راہ ِخدا میں خرچ کرتے ہو  وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے پاس محفوظ  رہتا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے  جانتا اور اس کی قدر فرماتا ہے۔ اس  سے زیادہ  نہ کوئی  قدر دان  ہے نہ کوئی اس سے بڑھ کر ا جردینے والا۔ ‘‘  (2)  
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اس  (آیت ) میں مسلمانوں کو خیرات کی رغبت دی  گئی ہے ۔یعنی جو کچھ تم کارِ خیر میں خرچ کرو گے ربّ اسے جانتا ہے بقدر اِخلاص ثواب دے گا ،  (آیت میں موجود لفظ)  ’’ مَا ‘‘  کے عموم  سے معلوم ہوا کہ ہر چھوٹا بڑا صدقہ ربّ کی بارگاہ  میں مقبول ہے بشرطِ اخلاص۔ ‘‘  (3)  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مجاہدے کی تعریف:
مجاہدے کا لغوی معنی دشمن سے جنگ کرنا،  پوری طاقت لگا دینا،  پوری کوشش کرنا ہے۔جبکہ اس کی اصطلاحی تعریف کئی طرح سے بیان کی گئی ہے۔حضرت علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے 



________________________________
1 -   تفسیرطبری  ، پ۲۹، المزمل ،تحت الآیۃ: ۲۰ ، ۱۲‏ /  ۲۹۵۔
2 -   د ر منثور، پ۳، البقرہ  ، تحت الآیۃ: ۲۷۳، ۲‏ /  ۹۹۔
3 -   تفسیر نعیمی ، پ۳، البقرہ ، تحت الآیۃ: ۲۷۳: ، ۳‏ /  ۱۳۴۔