(4) ذَرَّہ بھر نیکی پر بھی اَجْر
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ (۷) (پ۳۰، الزلزال:۷)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا۔
عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ چھوٹی چیونٹی کے وزن کے برابر ذَرَّہ کہلاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہےکہ جومٹی ہاتھ پر لگ جائے اُسے ذرّہ کہتے ہیں ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’ مؤمن یا کافرجو بھی اچھا یا بُرا عمل دنیا میں کرتے ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں وہ عمل بروزِ قیامت دکھا ئے گا۔ پھرمؤمن کی برائیاں معاف فرما دے گااورنیکیاں باقی رکھے گا۔جبکہ کافر کی نیکیاں اُس کے منہ پہ مار دی جائیں گی اور اس کے گناہوں پر اُسے عذاب دیا جائے گا۔ ‘‘ (1)
(5) دنیا میں کی ہوئی نیکیوں کا اُخْرَوِی اَجْر
اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًاؕ- (پ۲۹، المزّمِّل:۲۰)
ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور اپنے لیے جو بھلائی آگےبھیجو گے اسے اللہ کے پاس بہتر اور بڑے ثواب کی پاؤ گے۔
عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ اے مؤمنو!دنیا میں رہتے ہوئےتم جو صدقہ وخیرات کروگے، راہِ خدا اور دیگر بھلائی کے کاموں میں جو مال خرچ کرو گے، اسی طرح اپنے ربّ کی اطاعت وفرمانبرداری کے کام نماز، روزہ، حج یا ان کے علاوہ دیگر نیک کام کرو گے تو بروزِ قیامت ان تمام نیک اَعمال کا جو ثواب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں تم پاؤ گے وہ اُن اَعمال سے بہت زیادہ اور
________________________________
1 - تفسیر خازن ، پ ۳۰ ، الزلزلۃ ، تحت الآیۃ: ۷، ۸، ۴ / ۴۰۱۔